اسلام آباد: سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران بگرام کے علاقے میں اپنا اہم ٹارگٹ حاصل کرلیا ہے اور افغان طالبان رجیم کے ایمونیشن سپورٹ کے انفراسٹرکچر کو تباہ کردیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جاری کارروائیاں افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ آپریشن “غضب للحق” کے تحت افغانستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا رہے ہیں اور کسی بھی مقام پر سویلینز کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا۔ سکیورٹی حکام کے مطابق پاکستان کی حکمت عملی واضح ہے کہ صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان اور خیبرپختونخوا میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں افغان طالبان رجیم کے عناصر ملوث پائے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ باجوڑ، ترلائی مسجد اور وانا میں ہونے والے واقعات میں بھی افغان طالبان کے کردار کے شواہد موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق اب تک کی کارروائیوں کے دوران ٹی ٹی پی کی مڈ لیول قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف 50 سے زائد اسٹرائیکس کی جا چکی ہیں۔ اسی طرح پاکستان اب تک افغانستان میں ٹی ٹی پی کی 226 چیک پوسٹیں تباہ کر چکا ہے جبکہ 36 چیک پوسٹوں پر قبضہ بھی کر لیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کا افغانستان میں کسی حکومت کی تبدیلی سے کوئی تعلق نہیں، پاکستان کا واحد مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ پاکستان نے واضح طور پر مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور ٹی ٹی پی کی قیادت پاکستان کے حوالے کرے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ تیراہ کے علاقے میں کسی بڑے پیمانے پر آپریشن نہیں کیا جا رہا بلکہ وہاں صرف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں جاری ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ افغانستان میں 22 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان دہشت گرد گروہوں کے لیے ماسٹر پراکسی کا کردار ادا کر رہا ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کی سرپرستی بھی شامل ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کا دفاعی بجٹ ایران سے کم ہونے کے باوجود ملک کی عسکری طاقت دنیا کی بڑی طاقتوں میں شمار ہوتی ہے اور پاکستان کے چین، روس اور امریکا سمیت مختلف ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات ہیں۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان کو فتح کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور افغان عوام کو اپنے سیاسی فیصلے خود کرنے چاہئیں۔ تاہم پاکستان دہشت گردی کے خاتمے تک اپنے اہداف کے حصول کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغانستان کو واضح پیغام دیا ہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت کو پاکستان کے حوالے کیا جائے تاکہ سرحد پار دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
سکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں قومی اتحاد ناگزیر ہے اور نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کرنا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق اگر خیبرپختونخوا پولیس کو سیاسی طور پر آزاد کر دیا جائے تو وہ اکیلے ہی دہشت گردی کے خلاف موثر کامیابیاں حاصل کر سکتی ہے۔