اسلام آباد: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے امور پر ایک اہم اجلاس وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں ملک کے زرعی شعبے کی ترقی، غذائی تحفظ اور کسانوں کو سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم کو پرائم منسٹر اسٹریٹیجک روڈ میپ برائے زراعت اور غذائی تحفظ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ زرعی اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور کسانوں کی معاونت کے لیے مختلف منصوبوں پر بھی گفتگو کی گئی۔
زراعت ملکی معیشت کا بنیادی ستون
اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے ملکی معیشت میں اہم ستون کا درجہ رکھتے ہیں اور ان شعبوں کی ترقی کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔
انہوں نے ہدایت کی کہ ایگری کلچر روڈ میپ کے حوالے سے صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ پورے ملک میں یکساں زرعی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
چین سے تربیت یافتہ اسکالرز سے مشاورت کی ہدایت
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ چین سے زرعی تحقیق کے شعبے میں تربیت حاصل کرنے والے پاکستانی اسکالرز سے مسلسل رابطہ رکھا جائے اور انہیں زرعی شعبے میں اصلاحات کے لیے مشاورت میں شامل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جدید تحقیق اور عالمی تجربات سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کے زرعی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جا سکتا ہے۔
نیشنل فوڈ اینڈ ایگریکلچر سیکیورٹی کونسل کی تشکیل
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ تمام وفاقی اکائیوں میں نیشنل فوڈ اینڈ ایگریکلچر سیکیورٹی کونسل تشکیل دی جا رہی ہے۔
یہ کونسل ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے، زرعی پالیسیوں کو مؤثر بنانے اور مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
اسٹریٹیجک روڈ میپ کے پانچ بنیادی ستون
حکام نے اجلاس کو بتایا کہ پرائم منسٹر اسٹریٹیجک روڈ میپ پانچ بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے جن کا مقصد پاکستان میں ایک مستحکم اور مسابقتی زرعی و غذائی نظام قائم کرنا ہے۔
روڈ میپ کے تحت:
• غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں گے
• نجی شعبے کو زرعی برآمدات میں اضافے کے لیے فعال بنایا جائے گا
• واٹر گورننس کو بہتر کیا جائے گا
• موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے نئی اور مزاحم فصلوں کو فروغ دیا جائے گا
• زرعی تحقیق کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا
غذائیت بہتر بنانے اور جدید نظام متعارف کرانے کا منصوبہ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس منصوبے کے تحت پاکستان کے عوام کی غذائیت کو بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
اس سلسلے میں:
• بائیو فورٹیفائیڈ فوڈ کے فروغ پر کام کیا جائے گا
• فصلوں کی غذائی استعداد بڑھانے کے لیے تحقیق کو فروغ دیا جائے گا
زرعی نظام کی ڈیجیٹائزیشن
حکام کے مطابق زرعی نظام کی ریگولیشن کو ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے تاکہ شفافیت اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے ایک ڈیجیٹل ڈیش بورڈ تشکیل دیا جا رہا ہے جو:
• اجناس کی سٹوریج اور تحفظ کی نگرانی کرے گا
• زرعی میکانائزیشن کو بہتر بنانے میں مدد دے گا
• مختلف زرعی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لے گا
کسانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی
اجلاس کو بتایا گیا کہ کسانوں کو مالی سہولت فراہم کرنے کے لیے فارم اور نان فارم کریڈٹ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ کاشتکاروں کو آسانی سے سرمائے تک رسائی مل سکے۔
حکام کے مطابق اس اقدام سے کسان جدید زرعی ٹیکنالوجی اور بہتر بیج استعمال کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔
پسماندہ اضلاع کیلئے خصوصی پیکیج
حکومت نے ملک کے دس پسماندہ اضلاع میں زرعی ترقی کے لیے خصوصی ٹارگٹڈ پیکیجز دینے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
ان پیکیجز کے ذریعے زرعی پیداوار بڑھانے اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
ایگری گریجویٹس یوٹیلائزیشن اسکیم
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایگری گریجویٹس یوٹیلائزیشن اسکیم شروع کی جائے گی جس کے تحت زرعی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تحقیق اور زرعی ترقی کے منصوبوں میں شامل کیا جائے گا۔
اس اقدام کا مقصد زرعی تحقیق کو فروغ دینا اور نوجوان ماہرین کو عملی میدان میں مواقع فراہم کرنا ہے۔
اجلاس میں شرکت
اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر سمیت چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں زرعی اصلاحات اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔