کراچی — شہر میں امریکی قونصل خانے کے باہر پیش آنے والے پرتشدد واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی نے باضابطہ طور پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس واقعے میں 11 افراد ہلاک جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا فیصلہ کیا۔
پولیس حکام کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) ذوالفقار لاڑک کر رہے ہیں۔ کمیٹی کو واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر جامع رپورٹ مرتب کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
تحقیقات کے ابتدائی مرحلے میں مختلف اضلاع کے اعلیٰ پولیس افسران کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے طلب کیا گیا۔ اس سلسلے میں ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا، ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجار، ایس ایس پی امجد شیخ اور ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور واقعے سے متعلق اپنی بریفنگ دی۔
اسی طرح ایس ایس پی سٹی عارف عزیز اور ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ نے بھی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر صورتحال اور پولیس کی کارروائیوں سے متعلق تفصیلات فراہم کیں۔ ذرائع کے مطابق ایس ایس پی امجد شیخ نے کمیٹی کو واقعے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
تحقیقات کے دوران قونصل خانے کے باہر ہونے والی ہنگامہ آرائی کی مختلف ویڈیوز بھی کمیٹی کے سامنے پیش کی گئیں تاکہ واقعے کے تسلسل اور حالات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج، پولیس کی تعیناتی اور سکیورٹی انتظامات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔ اس کے علاوہ واقعے کے وقت موجود پولیس اہلکاروں کی کارکردگی اور ردعمل کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق کمیٹی مزید افسران اور متعلقہ اہلکاروں کو بھی طلب کر سکتی ہے تاکہ واقعے کی مکمل تصویر سامنے لائی جا سکے۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سات روز کے اندر اپنی مکمل رپورٹ مرتب کر کے وزیر داخلہ کو پیش کرے۔
حکومت کی جانب سے اس واقعے کی شفاف اور جامع تحقیقات پر زور دیا گیا ہے تاکہ ذمہ دار عناصر کا تعین کر کے آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔