اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے موجودہ علاقائی اور عالمی صورتحال کے پیش نظر آج ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں ملک کی مجموعی انتظامی، معاشی اور سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس آج دوپہر وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوگا جس میں قومی کفایت شعاری پالیسی کی منظوری ایجنڈے کا اہم حصہ ہوگی۔ حکومت کی کوشش ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اتفاق رائے سے ایسی پالیسی ترتیب دی جائے جس کے ذریعے موجودہ حالات میں قومی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی وزراء اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران ملک کی موجودہ معاشی صورتحال، عالمی اور علاقائی کشیدگی کے ممکنہ اثرات اور عوام کو درپیش مشکلات پر بھی غور کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات پر بھی بحث کی جائے گی جن کے ذریعے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
اجلاس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے کی بھی تجویز زیر غور آئے گی تاکہ موجودہ حالات میں انتظامی امور کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ایک اہم تجویز یہ بھی زیر غور آئے گی کہ سرکاری اجلاسوں اور بین الصوبائی رابطوں کو زیادہ تر آن لائن پلیٹ فارمز، خصوصاً زوم کے ذریعے انجام دیا جائے تاکہ اخراجات میں کمی اور انتظامی سہولت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسی طرح تعلیمی شعبے کے حوالے سے بھی اہم تجاویز پر غور متوقع ہے، جن میں اسکولوں اور کالجوں کی کلاسز کو آن لائن منتقل کرنے اور سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم پالیسی اختیار کرنے کے امکانات شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ہونے والے فیصلے موجودہ حالات کے تناظر میں کیے جائیں گے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی کہ حکومتی اقدامات سے ایک طرف قومی وسائل کی بچت ہو جبکہ دوسری جانب عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت اور ریلیف فراہم کیا جاسکے۔