امریکا کے جنگ ختم کرنے کے اعلان کے بعد عالمی معیشت میں مثبت ردعمل، تیل کی قیمتیں اور اسٹاک مارکیٹس میں تیزی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کے جلد خاتمے کے اعلان کے بعد عالمی معیشت میں مثبت اشارے سامنے آنے لگے ہیں۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی جبکہ مختلف ممالک کی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی بحری، فضائی اور زمینی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے اور جنگ بڑی حد تک مکمل ہو چکی ہے۔

ان کے اس بیان کے بعد عالمی منڈیوں میں فوری ردعمل دیکھنے میں آیا۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ برطانوی خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت کم ہو کر 90 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جو گزشتہ دنوں کی نسبت نمایاں کمی ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

عالمی صورتحال میں بہتری کے اشاروں کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بھی زبردست تیزی دیکھنے میں آئی۔
کاروباری ہفتے کے آغاز پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں بڑی چھلانگ دیکھنے میں آئی۔

کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 9728 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 156209 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتا رہا۔ مارکیٹ میں خریداری کے دباؤ کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد واضح طور پر بڑھتا دکھائی دیا۔

اسی طرح کے ایس ای 30 انڈیکس میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انڈیکس میں 6.7 فیصد اضافہ ہونے پر اسٹاک ایکسچینج انتظامیہ نے قواعد کے مطابق کاروبار کو 45 منٹ کے لیے معطل کر دیا۔
کاروبار معطل ہونے کے وقت کے ایس ای 100 انڈیکس 9303 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 155783 پوائنٹس پر موجود تھا۔

ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی مثبت رجحان

صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ایشیا کی دیگر اہم اسٹاک مارکیٹس میں بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ دیکھا گیا۔
• ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر تقریباً 1.2 فیصد اضافہ ہوا۔
• جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں 6.2 فیصد کی نمایاں تیزی دیکھی گئی۔
• جبکہ جاپان کی اسٹاک مارکیٹ میں بھی 3.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ماہرین معاشیات کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی میں مزید کمی آتی ہے اور جنگ واقعی اختتام کی جانب بڑھتی ہے تو اس کے اثرات عالمی تجارت، توانائی کی قیمتوں اور سرمایہ کاری پر مزید مثبت انداز میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی تناؤ کم ہونے سے تیل کی سپلائی کے خدشات کم ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں قیمتوں میں کمی اور مالیاتی منڈیوں میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔

Related posts

تیل کی عالمی قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ، حکومت پیٹرول مہنگا ہونے سے روکنے کے مختلف آپشنز پر غور کرنے لگی

ایران میں تیل ذخائر پر حملوں کے بعد ماحولیاتی خدشات، پاکستان میں صورتحال کی مانیٹرنگ جاری

علاقائی کشیدگی کے پیش نظر وزیراعظم کا اہم اجلاس آج طلب، قومی کفایت شعاری پالیسی کی منظوری متوقع