غزہ: اسرائیل کی جانب سے غزہ پر فضائی حملوں کے بعد فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے جنگ بندی معاہدہ ختم کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق ایک عرب سفارتکار نے بتایا کہ حماس نے عرب ثالثوں کے ذریعے امریکا کو پیغام بھیجا ہے کہ اسرائیل کی خلاف ورزیوں کے باعث غزہ میں جنگ بندی معاہدہ ختم کرنے کو تیار ہے۔
دوسری جانب، خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 14 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
عینی شاہدین اور طبی اہلکاروں نے بتایا کہ پہلا حملہ غزہ کے گنجان آباد علاقے رمال میں ایک کار پر ہوا، جس سے گاڑی میں آگ لگ گئی۔ ابھی تک واضح نہیں کہ شہید ہونے والے پانچ افراد کار میں سوار تھے یا راہگیر۔ درجنوں افراد نے متاثرین کو نکالنے اور آگ بجھانے میں مدد کی۔
کار پر حملے کے کچھ ہی دیر بعد وسطی غزہ پٹی میں دیر البلح شہر اور النُصیرات کیمپ میں دو گھروں پر الگ الگ حملے کیے گئے، جن میں کم از کم پانچ افراد شہید اور کئی زخمی ہوئے۔
بعد ازاں مغربی غزہ سٹی میں ایک گھر پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم چار فلسطینی شہید ہوئے، جس کے بعد آج کی مجموعی شہادتوں کی تعداد 14 ہو گئی۔
حالیہ واقعات کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، اور حماس نے جنگ بندی ختم کرنے کے عندیہ کے ساتھ جواب دینے کا عندیہ دیا ہے.