غزہ میں اسرائیلی جارحیت؛ دو سال میں شہدا کی تعداد 70 ہزار سے تجاوز، صورتحال مزید سنگین

غزہ: محصور فلسطینی علاقے غزہ میں اسرائیلی حملے مسلسل جاری ہیں اور دو سال کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 70 ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

تازہ ترین واقعات کے مطابق خان یونس میں اسرائیلی ڈرون حملے نے دو فلسطینی بچوں کی جان لے لی۔ اس کے علاوہ رفاہ کے مشرقی علاقوں میں بھی متعدد فضائی اور زمینی حملے کیے گئے۔

ادھر امدادی راستے بند ہونے اور پابندیوں کے باعث غزہ کے اسپتال شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ادویات کی شدید قلت، طبی سہولیات کی کمی اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

عالمی اداروں نے غزہ کی خراب ہوتی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیلی کارروائیوں کو “ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین جنگ بندی کی پوری طرح پاسداری کریں اور انسانی امداد کو بڑے پیمانے پر غزہ میں داخل ہونے دیا جائے۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے تھے، جسے فلسطینی عوام نسل کشی قرار دیتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق جاری جنگ بندی کے باوجود غزہ میں حملے اور شہریوں کی ہلاکتیں نہیں رک سکیں.

Related posts

غزہ: اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد حماس نے جنگ بندی ختم کرنے کا عندیہ دے دیا

غزہ اور مغربی کنارے: اسرائیلی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری، مسجد پر حملہ اور گرفتاریاں

جنوبی افریقہ: 153 فلسطینی مسافروں کو 12 گھنٹے طیارے میں روکنے کے بعد اترنے کی اجازت