تل ابیب میں اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک غیر معمولی اعتراف سامنے آیا ہے، جس میں غزہ میں ہونے والی وسیع پیمانے پر ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایک سینئر فوجی عہدیدار نے تسلیم کیا ہے کہ حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے شہادتوں کے اعداد و شمار مجموعی طور پر درست ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 71 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف براہِ راست فضائی اور زمینی حملوں میں جان سے جانے والوں پر مشتمل ہیں۔
اسرائیلی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار میں وہ افراد شامل نہیں جو بمباری کے بعد ملبے تلے دب کر لاپتا ہو گئے، یا وہ فلسطینی جو محاصرے کے باعث خوراک، ادویات کی کمی، بھوک اور مختلف بیماریوں سے جاں بحق ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج تاحال یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ شہید ہونے والوں میں عام شہریوں اور جنگجوؤں کا تناسب کیا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیل مسلسل غزہ کی وزارتِ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کو مسترد کرتا رہا ہے اور انہیں مبالغہ آمیز قرار دیتا رہا، تاہم اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں ان اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد قرار دیتی آئی ہیں۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 71 ہزار 667 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جبکہ لاکھوں افراد زخمی یا بے گھر ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے اس اعتراف کے بعد عالمی سطح پر جنگی جرائم، شہری آبادی کو نشانہ بنانے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق بحث میں مزید شدت آ گئی ہے، جبکہ بین الاقوامی برادری پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرے۔