لندن: دنیا کے کئی ممالک خلا میں نئے جہان اور زندگی کے امکانات کی تلاش میں سرگرم ہیں، لیکن برطانیہ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے خلاء میں فیکٹری قائم کر دی ہے جو سیمی کنڈکٹرز کے لیے مواد تیار کرے گی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ کے شہر کارڈف میں قائم کمپنی اسپیس فورج نے مائیکروویو اوون کے سائز کی فیکٹری خلا میں مدار میں بھیج دی ہے۔ کمپنی نے اس فیکٹری کی بھٹی کو فعال کر کے 1000 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جوش ویسٹرن کے مطابق، خلا میں تیار کیے گئے سیمی کنڈکٹرز زمین پر تیار ہونے والے سیمی کنڈکٹرز سے 4 ہزار گنا زیادہ خالص ہو سکتے ہیں۔ یہ سیمی کنڈکٹرز 5G ٹاورز، الیکٹرک گاڑیوں کے چارجرز اور جدید طیاروں میں استعمال کیے جا سکیں گے۔
ماہرین کے مطابق خلا کے وزن نہ ہونے اور ویکیوم ماحول کی وجہ سے ایٹمز بالکل درست ترتیب میں جڑتے ہیں اور آلودگی کا خطرہ کم ہوتا ہے، جس سے سیمی کنڈکٹر کی تیاری کے لیے یہ ماحول انتہائی موزوں ہے۔
اگلے مرحلے میں اسپیس فورج کا منصوبہ ہے کہ یہ فیکٹری سیمی کنڈکٹرز بنانے کے لیے مواد تیار کرے، جو بعد میں زمین پر الیکٹرانکس، مواصلاتی نظام، کمپیوٹنگ اور ٹرانسپورٹ میں استعمال ہو سکے۔
کمپنی اب ایک بڑی خلائی فیکٹری بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جو ایک وقت میں 10 ہزار چپس کے لیے سیمی کنڈکٹر مواد تیار کر سکے، اور اس طرح خلا میں مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ایک تاریخی سنگ میل طے کیا جائے گا۔