ماسکو — روسی حکومت نے باضابطہ طور پر میٹا کی ملکیت واٹس ایپ کو اپنے ملک میں بلاک کر دیا ہے، جس سے روس میں واٹس ایپ کے تقریباً 10 کروڑ سے زائد صارفین متاثر ہوں گے۔ اس اقدام کے ساتھ ہی روس میں مقبول میسجنگ ایپ پر مکمل پابندی نافذ کر دی گئی ہے اور اسے آن لائن ڈائریکٹری سے نکال دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں روسی انٹرنیٹ پر مؤثر انداز میں یہ ایپ غیر دستیاب ہو گئی ہے۔
روسی حکومت کا مؤقف اور متبادل ایپ
رپورٹس کے مطابق روسی حکومت چاہتی ہے کہ صارفین میکس نامی ایک مقامی میسجنگ ایپ پر منتقل ہو جائیں، جو وی چیٹ کی طرز پر بنائی گئی ہے۔ تاہم اس ایپ میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کی سہولت موجود نہیں، جس سے صارفین کی پرائیویسی اور محفوظ کمیونیکیشن کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
میٹا نے بیان میں کہا کہ روس کی جانب سے واٹس ایپ کو بلاک کرنے کی کوشش اس لیے کی گئی تاکہ صارفین کو حکومت کے تحت چلنے والی نگران ایپ میں منتقل کیا جا سکے۔ میٹا نے خبردار کیا کہ یہ اقدام 10 کروڑ سے زائد افراد کو محفوظ کمیونیکیشن سے محروم کر دے گا، اور روسی عوام کے ڈیجیٹل تحفظ کو کم کرے گا۔
دیگر میٹا ایپس اور سوشل میڈیا پر پابندیاں
روس نے 11 فروری کو ٹیلیگرام کو بھی آن لائن ڈائریکٹری سے ہٹا دیا، جبکہ میٹا کی دیگر ایپس فیس بک اور انسٹاگرام تک رسائی بھی ناممکن کر دی گئی ہے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق یوٹیوب پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ اسے مکمل طور پر آن لائن ڈائریکٹری سے خارج کیا گیا ہے یا نہیں۔
پس منظر
روس نے 2025 میں واٹس ایپ پر پابندی کا انتباہ دیا تھا، اور جولائی 2025 میں روسی پارلیمان کے ایک رکن نے کہا تھا کہ واٹس ایپ کو پابندی کی فہرست میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے بعد روس نے میٹا کی ملکیت ایپس کو انتہا پسند اداروں کی فہرست میں شامل کر دیا اور صدر ولادی میر پوتن نے غیر ملکی کمیونیکیشن ایپس پر پابندیوں کو سخت کرنے کی ہدایت دی تھی۔
عالمی ردعمل
میٹا نے اس اقدام کو صارفین کی پرائیویسی اور محفوظ کمیونیکیشن پر حملہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پابندی کے بعد روسی عوام کو عالمی سطح پر استعمال ہونے والی ایپس تک رسائی محدود ہو جائے گی، اور ڈیجیٹل آزادی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوں گے۔
روس میں واٹس ایپ اور دیگر میٹا ایپس کی پابندی کے بعد صارفین کو مقامی اور سرکاری کنٹرول والے پلیٹ فارمز پر منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے اطلاعات کی آزادی اور ذاتی پرائیویسی پر اثر پڑنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔