پاکستان میں فائیو جی اسپیکٹرم کی تاریخی نیلامی کا آغاز، ڈیجیٹل معیشت کے نئے دور کی امید

اسلام آباد: پاکستان میں تیز رفتار انٹرنیٹ کے نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے فائیو جی سروس کے لیے اسپیکٹرم کی نیلامی کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے، جسے ملک کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ تقریب میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی حفیظ الرحمان نے شرکت کی۔ اس موقع پر باضابطہ طور پر فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا عمل شروع کیا گیا۔

600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پیش

تقریب کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے تقریباً 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پیش کیا گیا، جسے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی قرار دیا جا رہا ہے۔

نیلامی کے عمل کا پہلا مرحلہ 60 منٹ پر مشتمل ہوگا، جبکہ نیلامی میں حصہ لینے کے لیے اہل قرار دی گئی تین بڑی ٹیلی کام کمپنیاں بولی کے عمل میں شریک ہیں۔ حکام کے مطابق نیلامی کے مختلف راؤنڈز کے بعد کامیاب کمپنیوں کو اسپیکٹرم لائسنس جاری کیے جائیں گے۔

فائیو جی سے آئی ٹی برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے گا

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کے لیے حکومت کی مسلسل کوششیں آج نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے فائیو جی کے لیے مکمل ڈیجیٹل ایکوسسٹم تیار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تیزی سے بلاک چین اور مصنوعی ذہانت (AI) جیسی جدید ٹیکنالوجیز کی طرف بڑھ رہا ہے اور فائیو جی سروس متعارف ہونے سے آئی ٹی سیکٹر کو نئی رفتار ملے گی۔

وزیر خزانہ کے مطابق اسپیکٹرم نیلامی سے نہ صرف آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل خدمات بھی نمایاں طور پر بہتر ہوں گی۔

پاکستان میں اب تک محدود اسپیکٹرم استعمال ہو رہا تھا

وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اسپیکٹرم آکشن ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن سروسز صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پر چل رہی تھیں، جس کی وجہ سے انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار متاثر ہوتا تھا۔ نئے اسپیکٹرم کی دستیابی کے بعد نہ صرف فائیو جی بلکہ فور جی سروس میں بھی نمایاں بہتری متوقع ہے۔

ان کے مطابق فائیو جی ٹیکنالوجی کے نفاذ کے بعد بڑے شہروں میں آئندہ چھ ماہ کے اندر فائیو جی سروس متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔

ڈیجیٹل نیشن پاکستان وژن

وزیر آئی ٹی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم باقاعدگی سے ڈیجیٹل اکانومی کے فروغ کے لیے اجلاس منعقد کرتے ہیں اور خود ڈیجیٹل نیشن پاکستان وژن کی قیادت کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسپیکٹرم کو خالی کرانے اور نیلامی کے لیے دستیاب بنانے میں اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

ماہرین کے مطابق فائیو جی ٹیکنالوجی کے آغاز سے پاکستان میں ڈیجیٹل بزنس، ای کامرس، اسمارٹ سٹیز، آن لائن تعلیم اور ٹیلی میڈیسن جیسے شعبوں میں نمایاں ترقی کے امکانات پیدا ہوں گے، جو ملکی معیشت کو جدید ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

Related posts

پاکستان نے سائبر سکیورٹی کے میدان میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ملکی سطح پر اینڈ پوائنٹ ڈیٹیکشن اینڈ رسپانس (EDR) اینٹی وائرس سسٹم تیار کر لیا

امریکا میں اے آئی سے چلنے والا قدآدم روبوٹک فوجی تیار، جنگی حکمتِ عملی میں نئی بحث چِھڑ گئی

ماسکو: روس نے واٹس ایپ اور دیگر میٹا ایپس پر مکمل پابندی عائد کر دی، صارفین کی تعداد 10 کروڑ سے زائد