ڈھاکا / اسلام آباد: بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو ایک تفصیلی خط ارسال کر دیا ہے، جس میں بھارت میں کرکٹ سرگرمیوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات، ویزہ مسائل اور دیگر انتظامی امور پر اپنا مؤقف شواہد کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بی سی بی نے آئی سی سی کی جانب سے اٹھائے گئے تمام سوالات کے مدلل اور دستاویزی جوابات فراہم کیے ہیں۔ خط میں صرف بنگلا دیشی کرکٹ ٹیم ہی نہیں بلکہ میڈیا نمائندوں، شائقینِ کرکٹ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی سکیورٹی سے متعلق خدشات بھی تفصیل سے اجاگر کیے گئے ہیں۔
حکومتی مؤقف بھی خط کا حصہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ بی سی بی نے خط کے ساتھ بنگلا دیشی حکومت کا باضابطہ مؤقف، سرکاری بیانات اور سکیورٹی سے متعلق خدشات کو بھی بطور شواہد شامل کیا ہے۔ بی سی بی نے واضح کیا ہے کہ ٹیم کی سلامتی سے متعلق تحفظات محض خدشات نہیں بلکہ حالیہ واقعات اور زمینی حقائق پر مبنی ہیں۔
بی سی بی نے آئی سی سی کو آگاہ کیا کہ بھارت میں موجودہ حالات کے پیش نظر حکومتی پالیسی اور سکیورٹی تشخیص میں کسی قسم کی نرمی ممکن نہیں۔
مستفیض الرحمان کا معاملہ پس منظر میں
واضح رہے کہ چند روز قبل بھارت میں انتہا پسند عناصر کی دھمکیوں اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے دباؤ کے بعد آئی پی ایل کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بنگلا دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو اپنی ٹیم سے نکال دیا تھا۔ اس فیصلے نے بنگلا دیش میں شدید ردعمل کو جنم دیا تھا۔
واقعے کے بعد بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے واضح مؤقف اختیار کیا تھا کہ بھارت اس وقت بنگلا دیشی کھلاڑیوں کے لیے محفوظ نہیں اور موجودہ حالات میں بنگلا دیشی ٹیم کسی صورت بھارت کا دورہ نہیں کرے گی۔
ورلڈ کپ میں شرکت پر بھی سوالیہ نشان
بنگلا دیشی حکومت نے بھی سکیورٹی خدشات کے پیش نظر یہ مؤقف اپنایا ہے کہ بنگلا دیش کی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہیں جائے گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق کھلاڑیوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
آئی سی سی کا ردعمل متوقع
ذرائع کے مطابق آئی سی سی کی جانب سے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے خط اور پیش کردہ شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ اس معاملے پر آئندہ دنوں میں اہم فیصلہ یا باضابطہ ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔