برسبین: یوکرین کی معروف ٹینس اسٹار مارتا کوستیوک برسبین اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے فائنل کے بعد اپنے ملک میں جاری سنگین انسانی بحران پر بات کرتے ہوئے جذباتی ہوگئیں۔ میچ کے اختتام پر گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ ہر میچ دل میں شدید درد کے ساتھ کھیلتی ہیں کیونکہ ان کا وطن سخت مشکلات سے گزر رہا ہے۔
مارتا کوستیوک نے کہا کہ وہ دنیا کے سامنے یوکرین کی صورتحال بیان کرنا چاہتی تھیں کیونکہ وہاں ہزاروں افراد شدید سردی، بجلی کی بندش اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ کے یخ بستہ موسم میں بھی لوگوں کو نہ بجلی میسر ہے اور نہ ہی گرم پانی۔
یوکرینی ٹینس اسٹار نے ذاتی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی بہن رات کے وقت تین کمبل اوڑھ کر سوتی ہے کیونکہ ان کا گھر انتہائی سرد رہتا ہے۔ مارتا کے مطابق یہ حقیقت ان کے لیے ناقابلِ بیان تکلیف کا باعث ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ہر روز کورٹ میں اترتے وقت جذباتی بوجھ محسوس کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بطور کھلاڑی وہ جیت اور ہار سے آگے بڑھ کر اپنے ملک کے لوگوں کے درد کو محسوس کرتی ہیں اور دنیا کی توجہ یوکرین کے عوام کو درپیش مسائل کی جانب مبذول کرانا چاہتی ہیں۔
خیال رہے کہ برسبین اوپن کے فائنل میں عالمی نمبر ایک ٹینس اسٹار اور بیلاروس کی ارینا سبالنکا اور مارتا کوستیوک کے درمیان سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ میچ میں دونوں کھلاڑیوں نے اعلیٰ معیار کی ٹینس کا مظاہرہ کیا، تاہم ارینا سبالنکا نے 6-4 اور 6-3 سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
اگرچہ مارتا کوستیوک فائنل جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکیں، مگر ان کے جذباتی الفاظ اور اپنے وطن کے لیے آواز بلند کرنے کے عمل کو شائقین اور کھیلوں کے حلقوں کی جانب سے خوب سراہا جا رہا ہے۔