معروف بھارتی اسپورٹس صحافی وکرانت گپتا نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی کی کھل کر تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی سی بی کو تاریخ میں پہلی بار ایسا مضبوط اور فیصلہ کن چیئرمین ملا ہے جو دباؤ میں آنے کے بجائے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتا ہے۔
ایک ٹی وی شو میں گفتگو کرتے ہوئے وکرانت گپتا نے کہا کہ محسن نقوی وہ پہلے چیئرمین ہیں جو کھل کر کہتے ہیں کہ ’’آؤ، آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرتے ہیں‘‘۔ ان کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ میں اب ایسا شخص موجود ہے جو محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر سخت فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وکرانت گپتا کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں، خاص طور پر بین الاقوامی کرکٹ کے حساس معاملات پر، محسن نقوی کا رویہ قابلِ تعریف ہے اور اس معاملے پر ان کی تعریف بنتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہ جانے کے معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو باقاعدہ خط لکھا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس خط میں پاکستان نے بنگلادیش کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے بھارت میں ورلڈ کپ میچز نہ کھیلنے کے فیصلے کی تائید کی ہے۔
ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے نہ صرف سفارتی سطح پر مؤقف اختیار کیا بلکہ اس تناظر میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ٹیم کی تمام تیاریوں کو بھی عارضی طور پر رکوا دیا تھا، جسے ایک غیر معمولی اور سخت فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
محسن نقوی کے سخت مؤقف کی ایک اور مثال اس وقت سامنے آئی تھی جب ایشیا کپ کے دوران بھارتی ٹیم نے فائنل جیتنے کے بعد محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس صورتحال پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے واضح مؤقف اپناتے ہوئے بھارتی ٹیم کو ٹرافی دینے سے روک دیا تھا، جس کے بعد یہ واقعہ بھی خاصا متنازع بن گیا تھا۔
کرکٹ حلقوں میں بھارتی صحافی کے اس بیان کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ماضی میں شاذ و نادر ہی کسی بھارتی تجزیہ کار نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی قیادت کی اس انداز میں کھل کر تعریف کی ہو۔ مبصرین کے مطابق محسن نقوی کا جارحانہ اور خودمختار مؤقف نہ صرف پی سی بی کی پالیسی میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ مستقبل میں پاک بھارت کرکٹ تعلقات پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔