ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان شیڈول ہائی وولٹیج مقابلے سے قبل صورتحال غیر یقینی کا شکار ہوگئی ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف گروپ میچ نہ کھیلنے کے اعلان کے باوجود بھارتی ٹیم نے واضح کیا ہے کہ وہ طے شدہ شیڈول کے مطابق سری لنکا کے شہر کولمبو کا سفر کرے گی اور آئی سی سی پروٹوکول پر مکمل عمل کرے گی۔
بھارتی کپتان کا دوٹوک مؤقف
ممبئی میں جمعرات کو ہونے والی کپتانوں کی پری ٹورنامنٹ پریس کانفرنس کے دوران بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کی حکمت عملی بالکل واضح ہے۔ ان کے مطابق بھارتی اسکواڈ کی فلائٹس بک ہوچکی ہیں اور ٹیم شیڈول کے مطابق کولمبو پہنچے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم اپنی تیاری مکمل رکھے گی اور میدان میں اترنے کے لیے تیار رہے گی، چاہے پاکستان میچ کھیلے یا نہ کھیلے۔
پاکستان کے بائیکاٹ کے اعلان کے اثرات
پاکستانی حکومت کی جانب سے 15 فروری کو بھارت کے خلاف گروپ میچ نہ کھیلنے کے اعلان کے بعد آئی سی سی اور ٹورنامنٹ منتظمین پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر پاکستان واقعی میدان میں نہ اترا تو آئی سی سی قوانین کے مطابق اسے میچ کے دو پوائنٹس سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے جبکہ یہ پوائنٹس بھارت کے کھاتے میں جا سکتے ہیں۔
بھارت کو سری لنکا جانے کی ضرورت کیوں؟
رپورٹس کے مطابق آئی سی سی کے قوانین کے تحت اگر کسی ٹیم کو مخالف کے بائیکاٹ کی صورت میں فتح کے پوائنٹس حاصل کرنے ہوں تو اسے میچ کے مقام پر وقت پر موجود ہونا، مکمل تیاری کرنا اور آفیشل شیڈول پر عمل کرنا لازمی ہوتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی ٹیم 15 فروری کو کولمبو میں پریکٹس سیشن، پریس کانفرنس اور دیگر تمام سرکاری سرگرمیوں میں حصہ لے گی اور مقررہ وقت پر اسٹیڈیم پہنچ کر پاکستانی ٹیم کا انتظار کرے گی۔ اگر پاکستان میدان میں نہ آیا تو میچ ریفری کی جانب سے میچ منسوخی کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا، جس کے بعد ہی بھارت کو دو پوائنٹس دیے جا سکیں گے۔
آئی سی سی اور ٹورنامنٹ کی صورتحال
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 7 فروری سے شروع ہورہا ہے۔ پاکستان کے گروپ میں بھارت کے علاوہ نمیبیا، نیدرلینڈز اور امریکا شامل ہیں۔ پاکستان اور بھارت کا مقابلہ ٹورنامنٹ کے اہم ترین میچوں میں شمار کیا جاتا ہے، اس لیے ممکنہ بائیکاٹ کے باعث ایونٹ کی دلچسپی اور انتظامی معاملات دونوں متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
ممکنہ نتائج اور آگے کا لائحہ عمل
کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان باضابطہ طور پر میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ برقرار رکھتا ہے تو اس کے ٹورنامنٹ میں آگے بڑھنے کے امکانات متاثر ہوسکتے ہیں، کیونکہ گروپ مرحلے میں ہر پوائنٹ انتہائی اہم ہوتا ہے۔ دوسری جانب آئی سی سی اور متعلقہ بورڈز کی جانب سے آخری لمحے تک سفارتی و انتظامی کوششیں جاری رہنے کا امکان ہے تاکہ شائقین کرکٹ کو روایتی حریفوں کے درمیان مقابلہ دیکھنے کا موقع مل سکے۔