کولمبو/ممبئی/لاہور — آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہائی وولٹیج میچ کے انعقاد کے فیصلے نے نہ صرف شائقین کرکٹ کی بے چینی ختم کردی بلکہ عالمی کرکٹ کونسل کو بھی بڑے مالی نقصان سے بچا لیا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاک بھارت میچ کی بحالی سے آئی سی سی کے تقریباً 174 ملین امریکی ڈالرز محفوظ ہوگئے ہیں، جو براڈکاسٹنگ رائٹس، گیٹ منی اور اسپانسرشپ معاہدوں کی مد میں متوقع نقصان کے طور پر دیکھے جا رہے تھے۔
مالی خدشات اور براڈکاسٹرز کی تشویش
رپورٹس کے مطابق پاکستان کی جانب سے ابتدائی طور پر میچ کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد براڈکاسٹرز اور اسپانسرز میں شدید تشویش پیدا ہوگئی تھی، کیونکہ پاک بھارت مقابلہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا سب سے زیادہ ناظرین حاصل کرنے والا میچ سمجھا جاتا ہے۔ اس میچ کی منسوخی سے نہ صرف اشتہاری معاہدوں پر اثر پڑنے کا خدشہ تھا بلکہ ٹکٹوں کی فروخت اور اسٹیڈیم ریونیو میں بھی نمایاں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔
ٹریول اور ہوٹل انڈسٹری میں اچانک تیزی
بھارتی میڈیا کے مطابق میچ کے انعقاد کی تصدیق کے فوری بعد ممبئی اور کولمبو کے درمیان فضائی سفر کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ٹکٹوں کی قیمتیں ابتدائی طور پر 10 ہزار سے 60 ہزار روپے تک بڑھ گئیں۔ اسی طرح کولمبو کی ہوٹل انڈسٹری نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے، کیونکہ میچ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث پہلے کئی بکنگز منسوخ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔
شائقین کی دلچسپی میں دوبارہ اضافہ
میچ کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد متعدد شائقین نے ٹکٹوں کی ریفنڈ پالیسی کے بارے میں معلومات حاصل کرنا شروع کردی تھیں، جبکہ کئی افراد نے ہوٹل ریزرویشنز ختم کرنے کے لیے بھی رابطے کیے تھے۔ تاہم اب میچ کی بحالی کے بعد شائقین کی دلچسپی دوبارہ بڑھ گئی ہے اور سفر و رہائش کی بکنگز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
حکومتی اجازت کے بعد صورتحال واضح
یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے قومی کرکٹ ٹیم کو 15 فروری 2026 کو شیڈول کے مطابق بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔ حکومتی اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ کھیل کے فروغ، عالمی کرکٹ کے مفاد اور دوست ممالک کی درخواستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد ورلڈکپ کے سب سے بڑے مقابلے کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم ہوگئی ہیں اور اب شائقین کو ایک سنسنی خیز مقابلے کا انتظار ہے۔