ڈبل سپر اوور کی سنسنی خیز شکست: افغانستان کی ورلڈکپ مہم خطرے میں، سپر 8 تک رسائی مشکل مگر ممکن

احمد آباد: آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈکپ میں مسلسل دوسری شکست کے بعد افغانستان کرکٹ ٹیم کی اگلے مرحلے تک رسائی خطرے میں پڑ گئی ہے جبکہ شائقین کرکٹ میں بھی شدید مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بدھ کو نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے گروپ ڈی کے اہم میچ میں افغانستان کو جنوبی افریقا کے ہاتھوں ڈبل سپر اوور کے سنسنی خیز مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

میچ کا خلاصہ

گروپ ڈی کے اس اہم مقابلے میں افغان کپتان راشد خان نے ٹاس جیت کر جنوبی افریقا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ پروٹیز نے مقررہ 20 اوورز میں 187 رنز اسکور کیے اور افغانستان کو ایک چیلنجنگ ہدف دیا۔ جواب میں افغان ٹیم نے بھی بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے 187 رنز بنا کر میچ برابر کر دیا، جس کے بعد فیصلہ سپر اوورز میں ہوا۔

پہلے سپر اوور میں افغانستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 17 رنز بنائے، تاہم جنوبی افریقا نے بھی اتنے ہی رنز بنا کر مقابلہ برابر کر دیا۔ دوسرے سپر اوور میں جنوبی افریقا نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 23 رنز اسکور کیے، جبکہ افغان ٹیم 19 رنز تک محدود رہی اور یوں پروٹیز نے 4 رنز سے کامیابی حاصل کر لی۔

افغانستان کی صورتحال مزید پیچیدہ

یہ شکست افغانستان کی ٹورنامنٹ میں مسلسل دوسری ناکامی ثابت ہوئی، کیونکہ اس سے قبل ٹیم اپنے افتتاحی میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف بھی ہار چکی تھی۔ مسلسل ناکامیوں کے بعد افغانستان گروپ ڈی میں اس وقت 0.555- کے نیٹ رن ریٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہے۔

گروپ میں نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا دو، دو میچز کھیل کر چار، چار پوائنٹس کے ساتھ بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں۔ ہر ٹیم نے گروپ مرحلے میں چار میچ کھیلنے ہیں اور صرف ٹاپ دو ٹیمیں سپر 8 مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی۔

کیا افغانستان اب بھی کوالیفائی کر سکتا ہے؟

مسلسل دو شکستوں کے باوجود افغانستان کے لیے اگلے مرحلے تک پہنچنے کی امید مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، تاہم راستہ انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ افغان ٹیم کو سپر 8 میں جگہ بنانے کے لیے اپنے باقی دونوں میچز—یو اے ای اور کینیڈا کے خلاف—بڑے مارجن سے جیتنا ہوں گے تاکہ نیٹ رن ریٹ بہتر ہو سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کو یہ امید بھی رکھنا ہوگی کہ جنوبی افریقا یا نیوزی لینڈ اپنے بقیہ میچز میں غیر متوقع طور پر بڑے مارجن سے شکست کھائیں۔ ایسی صورت میں بہتر نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر افغان ٹیم ٹاپ ٹو میں جگہ بنا کر اگلے مرحلے میں پہنچ سکتی ہے۔

شائقین کی نظریں باقی میچز پر

کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی ٹیم میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، تاہم اہم لمحات میں دباؤ برداشت نہ کر پانے کی وجہ سے ٹیم کو نقصان اٹھانا پڑا۔ اب افغان شائقین کی نظریں باقی گروپ میچز پر مرکوز ہیں، جہاں ہر جیت نہ صرف ضروری بلکہ بڑے فرق سے ہونا لازمی ہوگی۔

Related posts

ڈبل سپر اوور شکست کے بعد راشد خان کی قیادت تنقید کی زد میں، فیصلوں پر سوالات کی بھرمار

ٹی 20 ورلڈکپ: سنسنی خیز مقابلے کے بعد جنوبی افریقا نے افغانستان کو دوسرے سپر اوور میں شکست دے دی

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: بھارتی بیٹرز کے بلّوں پر بھانوکا راجاپکسا کے الزامات، نیا تنازع کھڑا ہوگیا