ڈبل سپر اوور شکست کے بعد راشد خان کی قیادت تنقید کی زد میں، فیصلوں پر سوالات کی بھرمار

احمد آباد: آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈکپ میں جنوبی افریقا کے خلاف ڈبل سپر اوور میں ہونے والی سنسنی خیز شکست کے بعد افغانستان کرکٹ ٹیم کے کپتان راشد خان کی قیادت اور میچ کے دوران کیے گئے فیصلوں پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔ شائقین کرکٹ، سابق کھلاڑیوں اور سوشل میڈیا صارفین نے اہم مواقع پر حکمت عملی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

دل شکن مقابلہ اور ڈبل سپر اوور ڈرامہ

بدھ کو نریندر مودی اسٹیڈیم، احمد آباد میں کھیلے گئے گروپ ڈی کے اہم میچ میں افغان کپتان راشد خان نے ٹاس جیت کر جنوبی افریقا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ پروٹیز نے مقررہ 20 اوورز میں 187 رنز اسکور کیے۔ جواب میں افغانستان نے بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے 187 رنز بنا کر میچ برابر کر دیا، جس کے بعد فیصلہ سپر اوورز میں ہوا۔

پہلے سپر اوور میں افغانستان نے 17 رنز بنائے جبکہ جنوبی افریقا نے بھی اتنے ہی رنز اسکور کیے۔ دوسرے سپر اوور میں جنوبی افریقا نے 23 رنز بنائے اور افغان ٹیم 19 رنز تک محدود رہی، یوں پروٹیز نے 4 رنز سے کامیابی حاصل کر لی۔

قیادت اور حکمت عملی پر تنقید

ڈبل سپر اوور میں شکست کے بعد سوشل میڈیا اور کرکٹ حلقوں میں راشد خان کی کپتانی پر بحث چھڑ گئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اہم لمحات میں فیصلوں نے ٹیم کو نقصان پہنچایا۔ ایک بھارتی کرکٹ کمنٹیٹر نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ اس شکست نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے، خاص طور پر یہ کہ آیا راشد خان کو خود سپر اوور کروانا چاہیے تھا اور کیا رحمان اللہ گرباز کو فوری بیٹنگ کے لیے نہیں آنا چاہیے تھا۔

کچھ سوشل میڈیا صارفین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے راشد خان کی بولنگ حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ دیگر نے سپر اوورز میں بیٹنگ آرڈر کے فیصلوں پر بھی سوال اٹھائے۔ ایک صارف نے لکھا کہ اہم موقع پر کپتان کا خود بولنگ نہ کرنا حیران کن تھا، جبکہ ایک اور صارف نے دوسرے سپر اوور میں محمد نبی کو گرباز کے بجائے بھیجنے کو غیر مؤثر فیصلہ قرار دیا۔

میچ کے اہم لمحات بھی زیر بحث

ناقدین نے میچ کے آخری لمحات کی غلطیوں کی بھی نشاندہی کی، خاص طور پر اس موقع کی جب افغانستان کو جیت کے لیے چند گیندوں پر معمولی رنز درکار تھے مگر غیر ضروری خطرناک رن لینے کی کوشش میں وکٹ گنوا دی گئی۔ ماہرین کے مطابق ایسے حساس لمحات میں بہتر فیصلہ سازی میچ کا رخ بدل سکتی تھی۔

افغانستان کی پوزیشن اور آئندہ امکانات

مسلسل دو شکستوں کے باوجود افغانستان کی ٹیم ابھی بھی ٹورنامنٹ سے باہر نہیں ہوئی، تاہم اگلے مرحلے تک پہنچنے کے امکانات کمزور ہو چکے ہیں۔ ٹیم کو سپر 8 مرحلے میں جگہ بنانے کے لیے اپنے باقی دونوں میچز بڑے مارجن سے جیتنے ہوں گے اور دیگر ٹیموں کے نتائج پر بھی انحصار کرنا ہوگا۔

شائقین کی نظریں اگلے مقابلوں پر

کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق افغان ٹیم میں صلاحیت کی کمی نہیں، مگر دباؤ کے لمحات میں حکمت عملی اور قیادت کا کردار فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔ اب ٹیم مینجمنٹ اور کپتان راشد خان پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ آئندہ میچز میں بہتر فیصلے کریں تاکہ ٹیم کی امیدیں برقرار رہ سکیں۔

Related posts

ڈبل سپر اوور کی سنسنی خیز شکست: افغانستان کی ورلڈکپ مہم خطرے میں، سپر 8 تک رسائی مشکل مگر ممکن

ٹی 20 ورلڈکپ: سنسنی خیز مقابلے کے بعد جنوبی افریقا نے افغانستان کو دوسرے سپر اوور میں شکست دے دی

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: بھارتی بیٹرز کے بلّوں پر بھانوکا راجاپکسا کے الزامات، نیا تنازع کھڑا ہوگیا