کولمبو — آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں روایتی حریفوں کے درمیان بڑے مقابلے سے قبل بھارتی میڈیا نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے اسپن اٹیک کو انتہائی خطرناک اور میچ کا فیصلہ کن عنصر قرار دے دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق بھارتی ٹیم کو خاص طور پر مڈل اوورز میں اسپن کے خلاف محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ یہی مرحلہ میچ کا رخ بدل سکتا ہے۔
پاکستانی اسپنرز کو مضبوط ہتھیار قرار
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس اسپنرز کی ایسی ورائٹی موجود ہے جو کسی بھی مضبوط بیٹنگ لائن اپ کو مشکلات میں ڈال سکتی ہے۔ رپورٹس میں ابرار احمد، شاداب خان، محمد نواز، صائم ایوب اور عثمان طارق کو پاکستان کے اسپن اسلحہ خانے کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔
میڈیا تجزیوں کے مطابق اگر کولمبو کی پچ اور موسم اسپنرز کے لیے سازگار رہے تو پاکستانی ٹیم مزید اسپن آپشنز کے ساتھ میدان میں اتر سکتی ہے، جس سے بھارتی بیٹنگ لائن مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
بھارتی بیٹنگ میں اسپن کے خلاف کمزوریاں
رپورٹس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ حالیہ میچز میں بھارتی بیٹرز کو اسپن کے خلاف مشکلات کا سامنا رہا۔ نمیبیا کے خلاف میچ میں پانچ بھارتی بیٹرز اسپنرز کے خلاف آؤٹ ہوئے جبکہ امریکا کے خلاف مقابلے میں بھی تین کھلاڑی اسپن کے سامنے ناکام رہے۔ ان اعداد و شمار نے بھارتی ٹیم مینجمنٹ کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
بھارت فیورٹ مگر خطرات برقرار
بھارتی میڈیا نے اگرچہ بھارت کرکٹ ٹیم کو مجموعی طور پر فیورٹ قرار دیا، تاہم ٹیم میں موجود “چھوٹی دراڑوں” کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو بڑے ٹورنامنٹس میں نمایاں ہو سکتی ہیں۔ تجزیوں کے مطابق پاکستان کے خلاف ہائی وولٹیج میچ میں یہی کمزوریاں بڑے مسائل میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
مڈل اوورز میچ کا اہم ترین مرحلہ
ماہرین کے مطابق پاکستانی اسپنرز مڈل اوورز میں بھارتی بیٹرز کی رفتار کم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر بھارت اس مرحلے میں رنز کی رفتار برقرار نہ رکھ سکا تو میچ کا توازن پاکستان کے حق میں جا سکتا ہے۔ اسی لیے بھارتی ٹیم کے لیے سب سے بڑا چیلنج اسپن کو “ڈی کوڈ” کرنا ہوگا تاکہ دباؤ کم رکھا جا سکے۔
کرکٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ پاک بھارت ٹاکرا صرف فاسٹ باؤلنگ یا پاور ہٹنگ تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس بار اسپن اٹیک ہی میچ کا فیصلہ کن ہتھیار بن سکتا ہے، جس نے دونوں ٹیموں کے مداحوں کی توقعات کو مزید بڑھا دیا ہے