کولمبو: ایشیا کپ کے بعد اب آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ بھی بھارتی سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑے گروپ میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی، لیکن ایک بار پھر سیاسی کشیدگی کے اثرات دکھائی دیے۔
ٹاس کا منظر: ہاتھ نہ ملانے کا فیصلہ
کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں پاکستانی کپتان سلمان آغا نے ٹاس جیتا اور بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ اس موقع پر دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے ہاتھ نہیں ملایا، جو گزشتہ برسوں کی طرح اس کھیل میں سیاسی اختلافات کی جھلک پیش کرتا ہے۔
بھارتی ٹیم کی پالیسی پر تنقید
یہ واضح ہے کہ بھارت نے کافی عرصے سے انٹرنیشنل میچز میں پاکستانی کھلاڑیوں سے ہینڈ شیک نہ کرنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ اس فیصلے کو نہ صرف بھارت کے اندر بلکہ بیرون ملک بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے کھیل کے جذبے اور روایتی کرکٹ اخلاقیات پر اثر پڑتا ہے۔
میچ کے تکنیکی پہلو
پاکستان نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا انتخاب کیا تاکہ بھارت کی بیٹنگ لائن اپ کو جلد سے جلد کمزور کیا جا سکے۔ پریماداسا اسٹیڈیم کے حالات، وکٹ کی نوعیت اور کولمبو کی نمی آج میچ میں اہم کردار ادا کریں گے۔ پاکستانی بولرز خاص طور پر صائم ایوب، شاہین آفریدی اور عثمان طارق کو بھارت کے بلے بازوں کے لیے بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔
کھیل اور سیاست کا ملاپ
یہ میچ نہ صرف کرکٹ کے شائقین بلکہ سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے بھی دلچسپی کا حامل ہے۔ ہاتھ نہ ملانے کا واقعہ کھیل اور سیاست کے پیچیدہ تعلقات کو سامنے لاتا ہے، جبکہ میچ کے نتائج دونوں ممالک کے شائقین کے جذبات پر براہ راست اثر ڈالیں گے۔
آئندہ صورتحال
اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی فیلڈنگ اور بولنگ بھارتی بیٹنگ لائن اپ کو کس حد تک قابو میں رکھ پاتی ہے، اور آیا یہ سیاسی کشیدگی کھیل کے معیار پر اثر انداز ہوگی یا نہیں۔