کولمبو: آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان ایسی ٹیم بن گئی ہے جس نے ایک ہی اننگز میں 6 اسپنرز کو آزمایا۔ بھارت کے خلاف گروپ میچ میں قومی ٹیم نے اسپن بولنگ پر غیر معمولی انحصار کرتے ہوئے منفرد حکمت عملی اپنائی، جس نے کرکٹ حلقوں میں بحث چھیڑ دی۔
بھارت کا 176 رنز کا ہدف
بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 175 رنز بنائے اور پاکستان کو 176 رنز کا ہدف دیا۔ ابتدائی وکٹ جلد گرنے کے باوجود بھارتی بیٹرز نے مڈل اوورز میں اسکور کی رفتار تیز رکھی۔
6 اسپنرز کا استعمال – ایک تاریخی فیصلہ
پاکستانی اسکواڈ میں شامل 6 اسپنرز:
• صائم ایوب
• سلمان علی آغا
• شاداب خان
• محمد نواز
• ابرار احمد
• عثمان طارق
ان تمام بولرز کو اننگز کے دوران استعمال کیا گیا، جو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل کسی بھی ٹیم نے ایک اننگز میں اتنے اسپنرز کو موقع نہیں دیا تھا۔
بولنگ کارکردگی
• صائم ایوب نے سب سے نمایاں کارکردگی دکھاتے ہوئے 3 وکٹیں حاصل کیں۔
• عثمان طارق اور سلمان آغا نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
• شاہین آفریدی نے بھی ایک وکٹ حاصل کی۔
• ایک بھارتی بیٹر رن آؤٹ ہوا۔
اگرچہ پاکستان نے اسپن پر انحصار کرتے ہوئے بھارتی بیٹنگ کو روکنے کی کوشش کی، تاہم مڈل اوورز میں بھارتی بیٹرز نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 175 رنز کا مجموعہ ترتیب دیا۔
حکمت عملی پر سوالات
ماہرین کے مطابق کولمبو کی پچ اسپنرز کے لیے مددگار سمجھی جاتی ہے، اسی لیے پاکستان نے یہ تجربہ کیا۔ تاہم سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا اتنی بڑی تعداد میں اسپنرز استعمال کرنا درست فیصلہ تھا یا ٹیم کو پیس اٹیک میں توازن برقرار رکھنا چاہیے تھا؟
کرکٹ حلقوں میں بحث
سوشل میڈیا اور کرکٹ تجزیہ کاروں میں اس حکمت عملی پر بحث جاری ہے۔ کچھ ماہرین اسے جرات مندانہ قدم قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض کے نزدیک یہ خطرناک تجربہ ثابت ہوا۔
پاکستان کا یہ فیصلہ ورلڈکپ تاریخ کا منفرد لمحہ بن چکا ہے، لیکن اب اصل امتحان بیٹنگ لائن کا ہوگا کہ آیا وہ 176 رنز کے ہدف کا تعاقب کس انداز میں کرتی ہے۔