کولمبو: آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں اتار چڑھاؤ سے بھرپور مہم کے بعد پاکستان نے نمیبیا کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کر کے سپر 8 مرحلے میں جگہ بنالی ہے۔ اس کارکردگی کے بعد بھارتی اسپورٹس صحافی Vikrant Gupta نے قومی ٹیم کے سیمی فائنل تک رسائی کے امکانات پر اہم تبصرہ کیا ہے۔
پاکستان کو روایتی حریف بھارت کے خلاف شکست کے بعد شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور سپر 8 تک پہنچنے کے امکانات بھی مشکوک دکھائی دے رہے تھے، تاہم نمیبیا کے خلاف 102 رنز کی شاندار فتح نے ٹیم کا اعتماد بحال کر دیا۔
نمیبیا کے خلاف میچ میں ہیروز کون رہے؟
نمیبیا کے خلاف میچ میں اوپنر Sahibzada Farhan نے شاندار سنچری اسکور کر کے ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ انہوں نے 57 گیندوں پر 100 رنز بنا کر ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں اپنی پہلی سنچری مکمل کی۔
دوسری جانب نوجوان اسپنر Usman Tariq نے محض 16 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور نمیبیا کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا۔
وکرانت گپتا کا تجزیہ
بھارتی صحافی وکرانت گپتا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے تبصرے میں لکھا:
“اگر عثمان طارق اور یقینی طور پر صاحبزادہ فرحان کو مناسب طریقے سے استعمال کیا جائے تو پاکستان ٹیم کم از کم سیمی فائنل میں باآسانی جاسکتی ہے۔”
ان کے مطابق پاکستان کی کامیابی کا انحصار نوجوان کھلاڑیوں کو اعتماد دینے اور درست حکمت عملی اپنانے پر ہوگا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر اوپننگ میں استحکام اور مڈل اوورز میں وکٹیں لینے کی صلاحیت برقرار رہی تو پاکستان کسی بھی مضبوط ٹیم کو ٹف ٹائم دے سکتا ہے۔
سیمی فائنل تک کا راستہ
ماہرین کے مطابق سپر 8 مرحلے میں پاکستان کو مضبوط ٹیموں کا سامنا کرنا ہوگا، جہاں مستقل مزاجی اور درست کمبی نیشن کلیدی کردار ادا کرے گا۔
• ٹاپ آرڈر کی مستقل کارکردگی
• مڈل آرڈر میں اسٹرائیک ریٹ برقرار رکھنا
• اسپنرز کا مؤثر استعمال
• ڈیتھ اوورز میں کنٹرول
یہ وہ عوامل ہیں جو قومی ٹیم کو سیمی فائنل تک لے جا سکتے ہیں۔
بھارتی صحافی کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں کی تعریف کو کرکٹ حلقوں میں مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ اب نظریں سپر 8 مرحلے پر مرکوز ہیں جہاں پاکستان کو اپنی فارم برقرار رکھتے ہوئے سیمی فائنل کی دوڑ میں جگہ بنانی ہوگی۔