لاہور: طارق بگٹی مستعفی، کپتان عماد بٹ پر دو سالہ پابندی — آسٹریلیا دورہ تنازع شدت اختیار کر گئی

لاہور: پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے صدر طارق بگٹی نے قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ پر دو سالہ پابندی عائد کرنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ استعفیٰ وزیرِ اعظم کو ارسال کر دیا گیا ہے جبکہ عماد بٹ اس مدت کے دوران نہ ڈومیسٹک اور نہ ہی انٹرنیشنل ہاکی کھیل سکیں گے۔

پریس کانفرنس میں اہم اعلانات

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طارق بگٹی نے کہا کہ آسٹریلیا کے دورے کے دوران پیش آنے والی بدانتظامی کے معاملے پر شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے مطالبہ کیا کہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے جو پرولیگ کے دوران ہونے والی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کا تعین کر کے کارروائی کرے۔

انہوں نے مؤقف اپنایا کہ آسٹریلیا میں مسائل کی بڑی وجہ پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کی جانب سے فنڈز کی بروقت فراہمی نہ ہونا تھا۔ ان کے مطابق ہوٹل بکنگ کے لیے رقم وقت پر ادا نہیں کی گئی جس کے باعث ٹیم کو انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

طارق بگٹی کا کہنا تھا کہ وہ خود پی ایس بی گئے اور فنڈز کی فوری فراہمی کی درخواست کی مگر انہیں بتایا گیا کہ ادائیگی میں دو ماہ لگ سکتے ہیں۔

کارکردگی کا دفاع اور حکومتی تعاون کا اعتراف

پی ایچ ایف صدر نے ٹیم کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عالمی رینکنگ میں پاکستان کی پوزیشن 18 سے بہتر ہو کر 13 ہوگئی، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوالیفائنگ راؤنڈ میں ٹیم بہتر کارکردگی دکھائے گی۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہاکی کے لیے 25 کروڑ روپے مختص کیے اور ریلیز بھی کیے۔ ساتھ ہی فیلڈ مارشل کی جانب سے دی جانے والی حمایت کو بھی سراہا۔

انکوائری رپورٹ وزیراعظم آفس ارسال

دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ پی ایس بی کی تین رکنی کمیٹی نے انکوائری مکمل کر کے رپورٹ وزیراعظم آفس بھجوا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں متعدد مالی معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

بحران کی سنگینی

آسٹریلیا کے دورے کے دوران انتظامی بدانتظامی کے الزامات سامنے آنے کے بعد ہاکی کے معاملات قومی سطح پر زیر بحث آ چکے ہیں۔ ایک جانب پی ایچ ایف اور پی ایس بی کے درمیان ذمہ داری کا تعین متنازع بن گیا ہے تو دوسری جانب کپتان پر پابندی اور صدر کے استعفے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں حکومتی سطح پر ہونے والے فیصلے پاکستان ہاکی کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہوں گے، خصوصاً جب ٹیم کو آئندہ بین الاقوامی ایونٹس میں شرکت درپیش ہے۔

Related posts

لاہور: پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے قومی ہاکی ٹیم کی مدد کا اعلان، کھلاڑیوں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی

ICC Men’s T20 World Cup: Sahibzada Farhan کی دھواں دار سنچری، نمیبیا کو یکطرفہ شکست

Glenn Maxwell پی ایس ایل 11 میں شامل، Pakistan Super League کو بڑا عالمی نام مل گیا