کولمبو میں کھیلے گئے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اہم مقابلے میں پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نمیبیا کو بآسانی شکست دے دی۔ میچ کے ہیرو اوپنر صاحبزادہ فرحان رہے جنہوں نے ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیٹنگ کا حسین امتزاج پیش کرتے ہوئے ناقابلِ شکست سنچری اسکور کی۔
فرحان کی میچ وننگ اننگز
دائیں ہاتھ کے اوپنر نے 58 گیندوں پر 100 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی، جس میں 11 خوبصورت چوکے اور 4 فلک شگاف چھکے شامل تھے۔ ان کی اننگز کی بدولت پاکستان نے مقررہ اوورز میں 200 رنز کا مضبوط ہدف ترتیب دیا۔
ابتدائی اوورز میں وکٹ قدرے سست اور مشکل دکھائی دی، تاہم فرحان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے وکٹ پر اہم شراکت قائم کی اور پھر درمیانی اوورز میں اسکورنگ ریٹ میں تیزی لائی۔ ان کی اننگز نے پاکستانی بیٹنگ لائن کو مستحکم بنیاد فراہم کی۔
نمیبیا کی بیٹنگ لائن بے بس
200 رنز کے ہدف کے تعاقب میں نمیبیا کی ٹیم پاکستانی باؤلرز کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکی اور پوری ٹیم 97 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ گرین شرٹس کے باؤلرز نے منظم لائن و لینتھ کے ساتھ دباؤ برقرار رکھا، جس کے نتیجے میں نمیبیا کی بیٹنگ کبھی بھی میچ میں واپسی نہ کرسکی۔
شاندار سنچری پر صاحبزادہ فرحان کو پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔
میچ کے بعد گفتگو: وکٹ مشکل تھی
میچ کے بعد سابق کپتان Wasim Akram سے گفتگو کرتے ہوئے صاحبزادہ فرحان نے کہا:
“شروع میں وکٹ تھوڑی مشکل تھی۔ میں اور صائم دونوں ایسے بیٹر ہیں جو تیز گیند کو پسند کرتے ہیں، لیکن یہاں گیند پچ پر پھنس کر آرہی تھی، اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ پہلے وقت لیں اور پارٹنرشپ بنائیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے صائم اور Salman Ali Agha سے کہا تھا کہ اگر ہم ابتدائی اوورز میں وکٹ بچا لیں تو بڑا اسکور ممکن ہے — اور ٹیم نے اسی حکمتِ عملی پر عمل کیا۔
کرکٹ آئیڈل کا انکشاف
گفتگو کے دوران جب وسیم اکرم نے ان سے ان کے کرکٹ آئیڈل کے بارے میں سوال کیا تو صاحبزادہ فرحان نے بلاجھجھک Ahmed Shehzad کا نام لیا۔
فرحان کا کہنا تھا:
“میں نے کرکٹ احمد شہزاد کو دیکھ کر شروع کی۔ وہ میرے آئیڈل ہیں۔ جب میں نے کرکٹ کا آغاز کیا تو ڈومیسٹک میں ان کے ساتھ کھیلنے کا موقع بھی ملا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ احمد شہزاد ان کے پسندیدہ کرکٹر ہیں اور بیٹنگ میں کسی بھی مسئلے کی صورت میں وہ ان سے رہنمائی لیتے ہیں۔
پاکستان کی سیمی فائنل کی دوڑ مضبوط
اس بڑی فتح کے بعد پاکستان کی ٹورنامنٹ میں پوزیشن مزید مستحکم ہوگئی ہے۔ نیٹ رن ریٹ میں بہتری اور ٹیم کی متوازن کارکردگی نے سیمی فائنل کی راہ ہموار کردی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق اگر صاحبزادہ فرحان اسی فارم کو برقرار رکھتے ہیں تو وہ نہ صرف پاکستان کے لیے اہم ثابت ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی پہچان مضبوط کریں گے۔