لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین Mohsin Naqvi نے پاکستان ہاکی میں جاری بحران کے دوران قومی مینز ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کی مدد جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔
چیئرمین پی سی بی نے لاہور میں قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں سے ملاقات کی، جہاں کھلاڑیوں نے پرو ہاکی لیگ کے دوران پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات سے آگاہ کیا۔
کھلاڑیوں کے لیے فوری اقدامات
محسن نقوی نے کھلاڑیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر افسوس کا اظہار کیا اور یقین دہانی کرائی کہ پی سی بی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گا۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ:
• مصر میں ہونے والے ورلڈ کپ کوالیفائر ٹورنامنٹ کے لیے فوری فضائی ٹکٹ، کھیلوں کا سامان اور ہوٹل رہائش کا بندوبست کیا جائے۔
• جمعہ سے کھلاڑیوں کے لیے تربیتی کیمپ قائم کیا جائے، تمام تیاریاں جمعرات کی رات تک مکمل ہوں۔
• زخمی کھلاڑیوں کو پی سی بی کی نگرانی میں فوری طبی سہولیات فراہم کی جائیں، تاکہ کھلاڑی صرف کھیل پر توجہ مرکوز رکھ سکیں۔
چیئرمین نے کھلاڑیوں سے کہا:
“آپ صرف کھیل پر توجہ دیں، پاکستان کی عزت سب سے پہلے ہے، ہم کسی بھی صورت ملک کے وقار کو مجروح نہیں ہونے دیں گے۔”
مالی امداد اور حوصلہ افزائی
ملاقات کے دوران پی سی بی نے حالیہ قومی ہاکی ٹورنامنٹ میں رنر اپ رہنے والے کھلاڑیوں میں فی کس 10 لاکھ روپے کے چیک تقسیم کیے۔
کھلاڑیوں نے مشکل وقت میں ملاقات، تعاون اور حوصلہ افزائی پر چیئرمین پی سی بی کا شکریہ ادا کیا۔
واضح پیغام: پی سی بی تعاون، پی ایچ ایف قیادت نہیں
قومی ہاکی ٹیم کے کپتان Imad Butt نے ملاقات کے بعد کہا کہ تمام معاملات چیئرمین پی سی بی دیکھیں گے۔
تاہم بعد ازاں محسن نقوی نے واضح کیا کہ وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF PHF صدر Tariq Bugti نے عہدے سے استعفیٰ دے کر اسے وزیر اعظم کو ارسال کر دیا۔
بحران کی وجوہات
• آسٹریلیا کے دورے کے دوران قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے غیر معیاری سہولیات کی ویڈیو منظرِ عام پر آئی۔
• وطن واپسی پر کپتان عماد بٹ نے کہا کہ کھلاڑیوں کو غیر معیاری رہائش فراہم کی گئی، اپنے برتن اور کپڑے خود دھونے پڑے۔
• موجودہ ہاکی مینجمنٹ کے ساتھ مزید کام کرنے سے انکار کے بعد PHF سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
• جمعرات کو PHF کے صدر طارق بگٹی نے عماد بٹ پر پابندی عائد کی اور عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
تجزیہ: ہاکی بحران اور پی سی بی کا کردار
ماہرین کے مطابق پی سی بی کا قدم قومی ہاکی ٹیم کے لیے ایک اہم سپورٹ کا اشارہ ہے، جس سے کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھا ہے اور ان کے کھیل پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملے گی۔
عالمی مقابلوں سے قبل یہ اقدام ٹیم کے استحکام اور پاکستان کی عزت برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔