لاہور: قومی کھیل ہاکی میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں Pakistan Hockey Federation (پی ایچ ایف) کے نو مقرر کردہ ایڈہاک صدر Mohyuddin Ahmed Wani نے ذمہ داریاں سنبھالتے ہی قومی ٹیم کے کپتان Imad Butt پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
چارج سنبھالتے ہی ہنگامی اقدامات
ایڈہاک صدر نے عہدے کا چارج سنبھالنے کے فوراً بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال غیر معمولی نوعیت کی ہے اور ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ میں شرکت کے لیے وقت انتہائی کم رہ گیا ہے، اس لیے فوری اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی فیصلے شارٹ ٹرم بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں تاکہ ٹیم کی تیاریوں میں کوئی خلل نہ آئے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تربیتی کیمپ کا آغاز آج یا کل سے کر دیا جائے گا تاکہ کھلاڑی بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں۔
ٹیم مینجمنٹ کی ازسرِ نو تشکیل
محی الدین وانی نے واضح کیا کہ قومی ہاکی ٹیم کے انتظامی اور تکنیکی ڈھانچے میں اصلاحات لائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا:
• ٹیم مینجمنٹ کی ازسرِ نو تشکیل نو پر کام جاری ہے
• کوچنگ اور ٹریننگ سسٹم میں بہتری لائی جائے گی
• ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنایا جائے گا
• تمام فیصلے شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے
انہوں نے کھلاڑیوں کو یقین دلایا کہ وہ صرف ٹریننگ اور میچز پر توجہ دیں، جبکہ انتظامی امور فیڈریشن سنبھالے گی۔
عماد بٹ پر پابندی ختم
ایڈہاک صدر نے اپنے بیان میں کپتان عماد بٹ پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کو اس وقت اتحاد اور استحکام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد کھلاڑیوں سے ملاقات کر کے ہاکی کی بہتری کے لیے اہم فیصلے کریں گے۔
واضح رہے کہ سابق صدر Tariq Bugti نے عماد بٹ پر پابندی عائد کرنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ بعد ازاں پی ایچ ایف کے سرپرست اعلیٰ اور وزیرِ اعظم Shehbaz Sharif نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا تھا۔
حکومتی فیصلے کے تحت سیکرٹری وزارتِ بین الصوبائی رابطہ محی الدین احمد وانی کو فیڈریشن کا ایڈہاک صدر مقرر کیا گیا، جنہوں نے ذمہ داری سنبھالتے ہی قومی ٹیم کے معاملات میں فوری اصلاحات کا آغاز کر دیا ہے۔
اعتماد کی بحالی اولین ترجیح
ہاکی حلقوں کا کہنا ہے کہ حالیہ تنازعات نے قومی کھیل کو نقصان پہنچایا، تاہم نئی قیادت کے فوری فیصلوں سے کھلاڑیوں اور شائقین میں امید کی نئی لہر پیدا ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر انتظامی استحکام برقرار رہا تو قومی ٹیم ورلڈ کپ کوالیفائنگ مرحلے میں بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہے۔
اب تمام نظریں آنے والے تربیتی کیمپ اور ٹیم کے اعلان پر مرکوز ہیں، جہاں سے قومی ہاکی کے مستقبل کی سمت کا تعین ہوگا۔