پاکستانی کرکٹ کے معروف آل راؤنڈر عماد وسیم اور ان کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق کے درمیان تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران سوشل میڈیا، خصوصاً انسٹاگرام پر شیئر کیے گئے پیغامات اور ویڈیوز نے معاملے کو عوامی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔
واٹس ایپ چیٹس کے مبینہ اسکرین شاٹس
ثانیہ اشفاق نے جولائی 2025 سے منسوب واٹس ایپ چیٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کیے ہیں جن میں مبینہ طور پر عماد وسیم کی جانب سے سخت لہجے میں پیغامات بھیجے گئے۔ اسکرین شاٹس کے مطابق کرکٹر نے خبردار کیا کہ اگر ان سے یا ان کے اہلِ خانہ سے رابطہ کیا گیا تو وہ قانونی کارروائی کریں گے۔
مزید یہ کہ ثانیہ، جو اس وقت حاملہ تھیں، نے مبینہ طور پر بچے کی پیدائش کے موقع پر عماد وسیم کی موجودگی کی درخواست کی تھی۔ تاہم شیئر کردہ پیغامات کے مطابق کرکٹر نے شرائط پر عمل نہ کرنے کی صورت میں پولیس میں شکایت درج کرانے کی دھمکی دی۔
ان اسکرین شاٹس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
سنگین الزامات اور ویڈیو پیغام
اس سے قبل ثانیہ اشفاق نے ایک ویڈیو بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ دسمبر 2023 میں انہیں اسقاطِ حمل پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے عماد وسیم کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ ان کے پاس اپنے الزامات کے شواہد موجود ہیں۔
انہوں نے متعلقہ حکام سے بھی معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔
اداروں سے کارروائی کا مطالبہ
ثانیہ اشفاق نے پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز اسلام آباد یونائیٹڈ سے اپیل کی کہ وہ اپنے ضابطہ اخلاق اور اقدار کے مطابق اس معاملے کا جائزہ لے۔
اس کے علاوہ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے بھی درخواست کی کہ وہ معاملے کا نوٹس لیں اور شفاف تحقیقات کا آغاز کریں۔
تاحال عماد وسیم یا متعلقہ اداروں کی جانب سے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ازدواجی زندگی اور طلاق
یاد رہے کہ عماد وسیم اور ثانیہ اشفاق کی شادی 2019 میں ہوئی تھی جبکہ دسمبر 2025 میں دونوں کے درمیان طلاق ہو گئی۔ جوڑے کے ہاں بچوں کی پیدائش بھی ہوئی، جن کے حوالے سے دونوں فریقین کے بیانات مختلف اوقات میں سامنے آتے رہے ہیں۔
عماد وسیم ماضی میں اپنی پہلی شادی کے خاتمے کو زندگی کا مشکل ترین دور قرار دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ شادی کامیاب نہ ہو سکی، لیکن اس رشتے نے انہیں ان کی زندگی کی سب سے بڑی نعمت یعنی ان کے بچے عطا کیے، جن سے وہ بے پناہ محبت کرتے ہیں۔
معاملے کی موجودہ صورتحال
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے الزامات نے شائقینِ کرکٹ اور عوام میں بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم قانونی اور اخلاقی طور پر یہ معاملہ حساس نوعیت کا ہے اور اس کی حتمی سچائی کا تعین صرف باضابطہ تحقیقات اور عدالت یا متعلقہ اداروں کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔
فی الوقت تمام نظریں متعلقہ فریقین کے ممکنہ ردعمل اور کسی بھی سرکاری یا ادارہ جاتی کارروائی پر مرکوز ہیں۔