لاہور: خطے میں فضائی آلودگی کے سنگین مسئلے کے باوجود پنجاب میں مؤثر حکومتی اقدامات کے باعث لاہور کی فضا میں بہتری جاری ہے۔ دہلی میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 647 ریکارڈ کیا گیا جبکہ لاہور میں اے کیو آئی 291 رہا، جو نمایاں فرق کو ظاہر کرتا ہے۔
اے کیو آئی میں کمی کی بڑی وجہ: عوامی تعاون + وزیراعلیٰ مریم نواز کے بروقت اقدامات
حکام کے مطابق گزشتہ برسوں کی نسبت لاہور کے اے کیو آئی میں نمایاں کمی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات اور عوامی تعاون کی مرہونِ منت ہے۔
انسدادِ سموگ ملٹی سیکٹورل ایکشن پلان مسلسل فعال ہے اور روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کی جا رہی ہے۔
ای پی اے کی سخت مانیٹرنگ — بھٹوں، موٹروے اور انڈسٹری کی سخت چیکنگ
ای پی اے کی جانب سے 102 معائنے کیے گئے
بھٹوں اور صنعتی یونٹس کی سخت چیکنگ
87 زگ زیگ بھٹے مقررہ معیار کے مطابق بغیر کالے دھوئیں کے چلتے پائے گئے
صرف 1 بھٹے سے سیاہ دھواں خارج ہوا، 1 لاکھ روپے جرمانہ عائد
14 بھٹے غیر فعال رہے
آج کسی بھٹے کو سیل یا مسمار کرنے کی نوبت نہیں آئی
حکام کے مطابق یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومتی گائیڈ لائنز پر مؤثر عملدرآمد ہو رہا ہے۔
سموگ ہاٹ اسپاٹس کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ مزید تیز
سموگ ہاٹ اسپاٹس کی ریئل ٹائم نگرانی
فوری فیلڈ رسپانس ٹیمیں فعال
مرکزی سڑکوں پر روزانہ دو بار واٹر اسپرنکلنگ
فضا میں دھول کے باریک ذرات میں واضح کمی
دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں اور غیر معیاری ایندھن پر کریک ڈاؤن
ٹریفک پولیس کی کارروائیاں مزید تیز
دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے چالان
غیر معیاری ایندھن کے استعمال پر سخت چیکنگ
تعمیراتی سرگرمیوں اور مٹی کے ڈھیروں کی کڑی نگرانی
عوامی آگاہی مہم “Smog-Free Punjab” جاری
تعلیمی اداروں، کمیونٹیز اور نوجوانوں کی بھرپور شمولیت کے ساتھ آگاہی مہم جاری ہے۔
عوام کو ماسک کے استعمال، غیر ضروری آؤٹ ڈور سرگرمیوں میں احتیاط اور ہر قسم کے دھوئیں کی اطلاع 1373 پر دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سینئر وزیر مریم اورنگزیب
“حکومتی اقدامات کے نتائج سامنے آ رہے ہیں، اے کیو آئی میں مرحلہ وار بہتری جاری ہے۔ عوامی تعاون بہت ضروری ہے۔”
پنجاب حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ عوام کی صحت اولین ترجیح ہے اور آلودگی پھیلانے والوں کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی برقرار رہے گی۔