لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبے کے تمام محکموں کی کارکردگی کا 6 گھنٹے طویل اجلاس ہوا، جس میں پنجاب میں ترقی، صاف پانی، روزگار، رہائش، سڑکیں اور جدید صنعت کے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے اجلاس میں کہا کہ عوامی خدمت کے اہداف حاصل کرنے پر ٹیم پنجاب کو شاباش دیتی ہوں، اور وزراء و انتظامیہ کے تعاون کے بغیر اہداف کا حصول ممکن نہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ:
• تھل ایکسپریس وے منصوبہ شروع کیا جائے گا تاکہ محروم اور دور دراز علاقوں کو ترقی کی سڑک سے جوڑا جائے۔
• پنجاب میں 20 ہزار سڑکیں بنائی جائیں گی اور 50 ہزار خاندانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ مجموعی طور پر 30 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکوں کی تعمیر و مرمت ہوگی۔
• صفائی اور پائیداری کے لیے 100 سال تک چلنے والی خصوصی پلاسٹک سیوریج لائن کا منصوبہ شروع کیا گیا۔
• پہلے فیز میں 440 ماڈل ویلج دسمبر 2026 تک مکمل کیے جائیں گے، جس میں صاف پانی، ڈرینج، پارک اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
• اپنی چھت، اپنا گھر پروگرام کے تحت 1 لاکھ 15 ہزار سے زائد گھروں کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے۔
• صوبے میں پہلا سالٹ ویلج اور منفرد فارماسیوٹیکل زون قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
• واسا کے مراکز کو 5 سے بڑھا کر 19 مراکز کردیا گیا اور ہر شہری تک صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے 1000 ری چارج ویل اور 100 سے زائد انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینک بنائے جائیں گے۔
• وہاڑی-ملتان روڈ جون تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر۔
• پنجاب کے ہر ضلع میں سی ایم ایکسرے سرجیکل پروگرام کے تحت لائیو اسٹاک او ٹی سینٹر قائم کیے جائیں گے۔
صوبائی حکومت نے ای بس سروس، ای ٹیکسی، ایئر پنجاب اور مری گلاس ٹرین سمیت جدید ٹرانسپورٹ نظام کے قیام کے اقدامات بھی حتمی کیے۔
کسانوں کے لیے اقدامات میں:
• پنجاب نے گندم کی بوائی میں دوسرے صوبوں پر سبقت حاصل کی اور 80 فیصد سے زائد ٹارگٹ مکمل کیا۔
• کسان کارڈ کے تیسرے فیز کے لیے 43 ارب روپے کے قرضے جاری کیے گئے۔
• ڈیڑھ سال میں 30 ہزار سے زائد ٹریکٹر فراہم کیے گئے اور جدید مشینری کے تحت کسانوں کو ہائی ٹیک میکانائزیشن سہولت دی گئی۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کی ترقی کی مثال بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے اور برازیل کے کوپ 30 اجلاس میں پاکستانی انکلیوژر میں صوبے کے اقدامات کو نمایاں پذیرائی ملی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے انڈسٹری لگانے کی اجازت دی جائے اور پنجاب بھر میں کوئی سڑک یا پل ٹوٹا نہ رہے گا۔
یہ اجلاس پنجاب میں ترقی، عوامی سہولیات اور صنعتی ترقی کے لیے ایک نیا سنگ میل ثابت ہوا۔