گلگت: صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور سابق وزیراعظم Nawaz Sharif نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے، مگر افسوس کہ یہاں ترقیاتی منصوبے شروع تو کیے جاتے ہیں لیکن برسوں تک مکمل نہیں ہوتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے علاوہ کسی سیاسی جماعت نے خطے میں قابل ذکر ترقیاتی کام نہیں کیے۔
گلگت میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ وہ اپنے دورِ حکومت میں کئی مرتبہ گلگت اور اسکردو کا دورہ کر چکے ہیں اور اس خطے کی ترقی کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج جب وہ دوبارہ گلگت آئے ہیں تو سڑکوں کی خراب حالت دیکھ کر انہیں شدید دکھ اور افسوس ہوا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ مانسہرہ سے گلگت تک سڑک کی تعمیر کا منصوبہ مکمل کیوں نہ ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی سیاسی جماعت پر تنقید نہیں کرنا چاہتے، تاہم عوام کو یہ ضرور جاننے کا حق ہے کہ اہم منصوبوں کو کیوں نظر انداز کیا گیا اور ان پر پیش رفت کیوں نہ ہو سکی۔
نواز شریف نے کہا کہ وہ اپنی سیاسی زندگی میں کبھی مخالفین کی کردار کشی کرکے ووٹ نہیں مانگتے بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام کے سامنے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا گیا، جبکہ ترقی کے لیے مختص وسائل کا صحیح استعمال ہونا چاہیے تھا۔
سابق وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ علاقے میں اسپتالوں کی تعمیر، ہائیڈل پاور منصوبوں کی تکمیل اور نگر سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سہرا مسلم لیگ (ن) کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی دوسری جماعت نے کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ مکمل کیا ہو تو اسے سامنے لایا جائے۔
گلگت ایئرپورٹ کی توسیع کا اعلان
نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں گلگت ایئرپورٹ کی تعمیر اور ترقی پر کام کیا گیا، تاہم بعد میں اس کی مزید توسیع نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ ایئرپورٹ کو جدید تقاضوں کے مطابق وسعت دی جائے تاکہ بڑے طیارے بھی یہاں اتر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم Shehbaz Sharif سے بات کریں گے تاکہ گلگت ایئرپورٹ کی توسیع کا منصوبہ شروع کیا جا سکے۔ ان کے مطابق اس وقت ہفتے میں چند پروازیں آتی ہیں جبکہ سیاحتی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے یہاں روزانہ اور بڑی تعداد میں پروازیں ہونی چاہئیں۔
لوڈشیڈنگ اور توانائی بحران پر تشویش
مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پانی، دھوپ اور قدرتی وسائل کی فراوانی موجود ہے، اس لیے یہاں توانائی کا بحران نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے طویل بجلی لوڈشیڈنگ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو سردیوں اور گرمیوں دونوں موسموں میں بجلی کی شدید قلت کا سامنا ہے، جو ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر مسلم لیگ (ن) کو عوام کا اعتماد حاصل ہوا تو توانائی کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے اور وہ خود ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لیے باقاعدگی سے گلگت بلتستان کا دورہ کریں گے۔
این ایف سی، صحت اور تعلیم کے منصوبوں کا وعدہ
نواز شریف نے یاد دلایا کہ 2017 میں ان کی حکومت نے گلگت بلتستان کے مالی حقوق کے حوالے سے این ایف سی ایوارڈ کے معاملات پر کام شروع کیا تھا، تاہم 2018 میں حکومت ختم ہونے کے باعث یہ عمل مکمل نہ ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو علاج معالجے کے لیے اسلام آباد یا دیگر شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے بلکہ جدید طبی سہولتیں مقامی سطح پر ہی دستیاب ہوں۔ اس مقصد کے لیے صحت کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کی جائے گی۔
انہوں نے نوجوانوں کے لیے بلاسود قرضوں، ہونہار طلبہ کے لیے اسکالرشپس اور لیپ ٹاپ اسکیموں کے اجراء کا بھی اعلان کیا۔ ساتھ ہی خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے الگ خواتین یونیورسٹی قائم کرنے کا وعدہ بھی کیا۔
دیامر بھاشا ڈیم منصوبے پر سوالات
نواز شریف نے اپنے خطاب میں Diamer-Bhasha Dam کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے ڈیم کی تعمیر کے لیے زمینوں کے حصول کی مد میں تقریباً 100 ارب روپے فراہم کیے تھے، مگر افسوس کہ کئی سال گزرنے کے باوجود منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ منصوبہ وقت پر مکمل ہو جاتا تو نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے پاکستان کو سستی بجلی، پانی کے ذخائر اور معاشی فوائد حاصل ہوتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت برقرار رہتی تو آج یہ اور دیگر مسائل حل ہو چکے ہوتے۔
جلسے کے اختتام پر نواز شریف نے گلگت بلتستان کے عوام سے حمایت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آکر خطے کی ترقی، روزگار کے مواقع، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو ترجیح دے گی۔