نئے عدالتی دھچکوں سے بچنے کے لیے پی ٹی آئی کے پسِ پردہ رابطے، قانونی کارروائیوں میں مہلت لینے کی کوششیں تیز
ذرائع کا دعویٰ: بیرسٹر گوہر نے محمود خان اچکزئی اور راجا ناصر عباس سے رابطے کیے، القادر کیس اور علیمہ خان کے مقدمے میں تاخیر کی کوشش؛ پارٹی کے اندر حکمتِ عملی پر اختلافات بھی سامنے آگئے
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بانی چیئرمین عمران خان اور علیمہ خان سے متعلق اہم عدالتی مقدمات میں ممکنہ منفی فیصلوں سے بچنے کے لیے پسِ پردہ سیاسی رابطے تیز کر دیے ہیں، تاہم اس حکمتِ عملی پر پارٹی کے اندر اختلافات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجا ناصر عباس سے رابطہ کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اپنے سیاسی ذرائع استعمال کرتے ہوئے زیرِ سماعت مقدمات میں، پارٹی کے بقول، کچھ مہلت دلوانے کی کوشش کریں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی سے رانا ثناء اللہ کے ذریعے رابطہ کرنے کی درخواست کی گئی، جبکہ علامہ راجا ناصر عباس پہلے ہی ایک ایسے وفاقی وزیر سے رابطے میں ہیں جنہیں اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی خواہش ہے کہ حکومت دو اہم مقدمات کو فوری منطقی انجام تک پہنچانے پر زور نہ دے۔ ان مقدمات میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ (190 ملین پاؤنڈ) کیس میں عمران خان کی اپیل اور راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں علیمہ خان کے خلاف زیرِ سماعت مقدمہ شامل ہیں۔
پارٹی ذرائع کے مطابق اس وقت سب سے زیادہ تشویش علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر کے واقعات سے متعلق مقدمے پر ہے، جو اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی کو خدشہ ہے کہ اگر جلد فیصلہ سناتے ہوئے سزا دی گئی تو علیمہ خان کو جیل جانا پڑ سکتا ہے، جس سے پہلے سے دباؤ کا شکار پارٹی مزید قانونی اور سیاسی مشکلات میں گھر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان پہلے ہی جیل میں ہیں جبکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور دیگر قریبی رشتہ دار بھی مختلف مقدمات میں قید ہیں۔ پارٹی رہنماؤں کا خیال ہے کہ ایسے حالات میں علیمہ خان کی ممکنہ گرفتاری یا سزا کارکنوں کے حوصلوں پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
اسی تناظر میں پی ٹی آئی اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت میں بھی تاخیر چاہتی ہے۔ پارٹی کے بعض رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ فوری فیصلے کے بجائے سماعت میں تاخیر قانونی اور سیاسی اعتبار سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کو خدشہ ہے کہ اگر اسلام آباد ہائی کورٹ نے سزا برقرار رکھی تو آئینی عدالت سے رجوع کرنے سے پہلے پارٹی کے قانونی آپشنز مزید محدود ہو جائیں گے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے اور ضمانت دینے کی درخواستیں مسترد کر چکی ہے۔
اگرچہ پارٹی کو توقع ہے کہ یہ مقدمہ بالآخر آئینی عدالت تک پہنچے گا، تاہم حکمتِ عملی مرتب کرنے والے رہنماؤں کا خیال ہے کہ اپیل کے فیصلے میں تاخیر انہیں سیاسی اور قانونی سطح پر مزید گنجائش فراہم کر سکتی ہے۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر اس حکمتِ عملی پر مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں۔ ایک حلقہ سمجھتا ہے کہ سیاسی رابطوں کے ذریعے عدالتی کارروائی میں تاخیر کی کوشش پارٹی کے اس مؤقف سے متصادم ہے کہ وہ اپنے مقدمات صرف عدالتوں میں لڑ رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق علیمہ خان بھی اس حکمتِ عملی سے مطمئن نہیں اور انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر انہیں سزا بھی سنائی جاتی ہے تو وہ قانونی عمل کا سامنا کرنے اور جیل جانے کے لیے تیار ہیں، لیکن عدالتی کارروائی مؤخر کرانے کے لیے کسی قسم کے انتظامات کے حق میں نہیں۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر انہی کوششوں کے باعث انسدادِ دہشت گردی عدالت میں علیمہ خان کا مقدمہ آئندہ ہفتے نمٹنے کے بجائے 12 اگست تک ملتوی کیا گیا۔
رابطہ کرنے پر بیرسٹر گوہر خان نے اس مبینہ حکمتِ عملی یا زیرِ سماعت مقدمات پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
ذرائع کے مطابق یہ صورتحال پی ٹی آئی کے اندر ایک اہم بحث کو بھی اجاگر کر رہی ہے کہ آیا پارٹی قانونی ریلیف کے لیے سیاسی ذرائع استعمال کرے یا ممکنہ سیاسی نقصان کے باوجود عدالتی عمل کو اپنی رفتار سے آگے بڑھنے دے.