ابوظبی/صنعا: متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ یمن میں تعینات اس کے انسدادِ دہشت گردی یونٹس نے اپنا مشن رضاکارانہ طور پر ختم کر دیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے وام کے مطابق وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ یمن میں حالیہ پیش رفت کے بعد جامع جائزے کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ یو اے ای نے 2019 میں یمن سے اپنی باقاعدہ فوج واپس بلا لی تھی، تاہم انسدادِ دہشت گردی کے لیے کچھ خصوصی یونٹس محدود مدت کے لیے وہاں تعینات تھے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کی صدارتی کونسل (پی ایل سی) کے سربراہ رشاد العلیمی نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق رشاد العلیمی نے مطالبہ کیا تھا کہ یمن میں موجود یو اے ای کی تمام فورسز 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑ دیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ یمن کی تمام بندرگاہوں اور زمینی و بحری گزرگاہوں پر 72 گھنٹوں کے لیے مکمل فضائی، زمینی اور بحری ناکہ بندی نافذ کی جا رہی ہے۔
یہ صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے یمن میں محدود فضائی کارروائی کی، جس کے دوران مکلا بندرگاہ کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی اتحاد کے مطابق یہ کارروائی یو اے ای کی حمایت یافتہ جنوبی علیحدگی پسند تنظیم سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) کو فراہم کی جانے والی غیر ملکی فوجی معاونت کے خلاف کی گئی۔
بعد ازاں سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بھی کہا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات یمنی حکومت کے مطالبے کے مطابق 24 گھنٹوں کے اندر اپنی فوج یمن سے واپس بلائے اور کسی بھی فریق کو عسکری یا مالی معاونت فوری طور پر بند کرے۔
یمن میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے تناظر میں خطے میں سیاسی اور عسکری کشیدگی میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔