تہران نے امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے واضح اعلان کیا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی بھی سطح پر بات چیت نہیں کرے گا۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ Ali Larijani نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کا کوئی امکان نہیں۔
ٹرمپ پر تنقید
ایک اور بیان میں علی لاریجانی نے امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ “ٹرمپ کے خود ساختہ خیالات نے مشرقِ وسطیٰ کو افراتفری میں دھکیل دیا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ ایران دباؤ یا دھمکی کے تحت کوئی فیصلہ نہیں کرے گا اور قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ٹرمپ کا مؤقف
اس سے قبل ایک امریکی جریدے کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کی نئی قیادت سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایرانی قیادت بھی مذاکرات میں دلچسپی رکھتی ہے۔
تاہم تہران کے حالیہ بیان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
جاری فوجی کشیدگی
واضح رہے کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد خطے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔ ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ امریکا اور اسرائیل بھی ایران کے مختلف مقامات کو نشانہ بنانے کے دعوے کر رہے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق سفارتی دروازے بند ہونے کی صورت میں تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
عالمی برادری کی تشویش
بین الاقوامی سطح پر کئی ممالک نے فریقین سے تحمل اور مذاکرات کی بحالی کی اپیل کی ہے، تاہم موجودہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوری طور پر کسی پیش رفت کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔