کراچی: شہر قائد میں پیش آنے والے دلخراش سانحہ گل پلازہ پر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ واقعے کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں نبی بخش تھانے میں درج کر لیا گیا ہے، جس میں غفلت اور لاپرواہی سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق مقدمہ فی الحال نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے، تاہم تفتیش کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے پلازہ کی تعمیر، دیکھ بھال اور انتظام سے جڑے ذمہ داران کا تعین کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد واقعے کو انسانی غفلت کا نتیجہ ظاہر کرتے ہیں۔
جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل جاری
ریسکیو اور انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق سانحے میں جاں بحق ہونے والے 71 افراد میں سے اب تک 20 لاشوں کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ باقی لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے اور دیگر قانونی مراحل جاری ہیں۔
لاپتہ افراد کی فہرست میں تشویشناک اضافہ
حکام کے مطابق سانحے کے بعد لاپتہ ہونے والے افراد کی فہرست میں 82 افراد کے نام شامل ہیں۔ لاپتہ افراد کے اہل خانہ مختلف سرکاری مراکز اور اسپتالوں میں اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں، جس کے باعث شہر بھر میں فضا سوگوار ہے۔
تفتیشی عمل میں تیزی
پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ عمارت کے نقشے، اجازت نامے اور متعلقہ ریکارڈ بھی حاصل کیا جا رہا ہے۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار عناصر کے خلاف مزید سخت قانونی کارروائی متوقع ہے۔
عوامی مطالبہ: ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے
سانحہ گل پلازہ کے بعد شہری حلقوں اور سماجی تنظیموں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ واقعے کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ اس نوعیت کے المناک حادثات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔