واشنگٹن: مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے تناظر میں ایک امریکی ٹیکنالوجی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے دنیا کا پہلا اے آئی سے چلنے والا قدآدم انسان نما روبوٹک فوجی تیار کر لیا ہے، جسے جدید جنگی اور دفاعی مقاصد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس ہیومنائیڈ روبوٹ کا نام Phantom MK-1 رکھا گیا ہے، جو جدید سینسرز، خودکار نیویگیشن سسٹم اور مصنوعی ذہانت پر مبنی فیصلہ سازی کی صلاحیت سے لیس ہے۔
ساخت اور تکنیکی خصوصیات
کمپنی کا کہنا ہے کہ فینٹم ایم کے ون کی قامت تقریباً 5 فٹ 11 انچ اور وزن 180 پاؤنڈ ہے۔ یہ روبوٹ تقریباً 5 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کر سکتا ہے اور ناہموار زمین پر بھی توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
روبوٹ میں جدید کیمرے، لائیڈار (LiDAR) سینسرز اور ریئل ٹائم ڈیٹا پروسیسنگ سسٹم نصب کیے گئے ہیں، جو اسے اردگرد کے ماحول کا تجزیہ کر کے فوری ردعمل دینے کے قابل بناتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ نظام اسے محدود انسانی نگرانی کے ساتھ پیچیدہ مشنز انجام دینے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
ممکنہ عسکری استعمال
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ روبوٹ درج ذیل ذمہ داریاں سنبھال سکتا ہے:
• فوجی تنصیبات کی تعمیر اور لاجسٹک سپورٹ
• حساس علاقوں میں گشت اور نگرانی
• دفاعی مورچوں کی مضبوطی
• ہائی رسک آپریشنز میں شمولیت
ترجمان کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایسے خودکار نظام تیار کرنا ہے جو جنگی میدان میں انسانی فوجیوں کو درپیش خطرات کم کر سکیں۔
امریکی فوج کی دلچسپی
رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ دفاع اس ٹیکنالوجی میں دلچسپی لے رہا ہے، تاہم باضابطہ معاہدے یا عملی تعیناتی کے حوالے سے کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ جدید جنگی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اخلاقی اور عالمی خدشات
ماہرینِ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے حلقوں میں خودمختار ہتھیاروں اور اے آئی کنٹرولڈ فوجی نظاموں پر پہلے ہی بحث جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے روبوٹک نظاموں کے استعمال سے جنگ کے اصولوں، انسانی کنٹرول اور جوابدہی کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
دوسری جانب ٹیکنالوجی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اگر مناسب ضابطہ کار اور انسانی نگرانی برقرار رکھی جائے تو یہ نظام جانوں کے ضیاع میں کمی لا سکتے ہیں۔
مستقبل کی جنگ یا ٹیکنالوجی کا تجربہ؟
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق انسان نما روبوٹک فوجیوں کی تیاری اس بات کی علامت ہے کہ مستقبل کی جنگیں مصنوعی ذہانت، خودکار نظاموں اور سائبر ٹیکنالوجی کے گرد گھومیں گی۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کی عملی افادیت، لاگت اور اخلاقی پہلوؤں پر ابھی طویل بحث باقی ہے۔