دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ WhatsApp اپنے صارفین کے لیے ایک نیا اور انتہائی مفید فیچر متعارف کرانے جا رہی ہے، جس کے تحت اب صارفین براہِ راست ڈاکومنٹس کو Meta AI کے ساتھ شیئر کرسکیں گے۔ اس نئے فیچر کا مقصد صارفین کو دستاویزات کے تجزیے، خلاصے اور فوری معلومات تک آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ WABetaInfo کی رپورٹ کے مطابق یہ فیچر فی الحال واٹس ایپ کے آئی او ایس بیٹا ورژن میں دیکھا گیا ہے۔ اس اپ ڈیٹ کے بعد صارفین چیٹ اٹیچمنٹ آپشن کے ذریعے پی ڈی ایف، اسپریڈ شیٹس اور دیگر فائلز براہ راست میٹا اے آئی چیٹ بوٹ میں اپ لوڈ کرسکیں گے۔
اس سے قبل صارفین کو کسی بھی ڈاکومنٹ کا متن دستی طور پر کاپی پیسٹ کرنا پڑتا تھا یا پھر صفحات کے اسکرین شاٹس شیئر کیے جاتے تھے، جس میں وقت بھی زیادہ لگتا تھا اور معلومات کا مکمل تناظر بھی متاثر ہوسکتا تھا۔ تاہم نئے فیچر کے بعد میٹا اے آئی خود ڈاکومنٹ کا تجزیہ کرکے اس کی سمری تیار کرے گا، اہم نکات نمایاں کرے گا اور صارفین کے سوالات کے تناظر کے مطابق جواب بھی دے سکے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ اپ ڈیٹ خاص طور پر طلبہ، دفتری ملازمین، ریسرچرز اور ایسے افراد کے لیے نہایت کارآمد ثابت ہوسکتی ہے جو روزانہ بڑی تعداد میں ڈاکومنٹس پر کام کرتے ہیں۔ اب صارفین لمبی فائلز کو مکمل پڑھنے کے بجائے چند سیکنڈز میں ان کا خلاصہ حاصل کرسکیں گے، جس سے وقت اور محنت دونوں کی بچت ہوگی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ صارفین صرف واٹس ایپ کے اندر موجود فائلز ہی نہیں بلکہ دیگر ایپس میں محفوظ ڈاکومنٹس بھی براہ راست میٹا اے آئی کے ساتھ شیئر کرسکیں گے۔ اس طرح واٹس ایپ اپنے اے آئی فیچرز کو مزید وسعت دے رہا ہے تاکہ صارفین کو ایک جامع اسمارٹ اسسٹنٹ کا تجربہ فراہم کیا جاسکے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک ChatGPT اور Google Gemini جیسے اے آئی پلیٹ فارمز ڈاکومنٹ اپ لوڈ اور تجزیے کی سہولت فراہم کر رہے تھے، جبکہ میٹا اے آئی اس میدان میں نسبتاً پیچھے محسوس ہوتا تھا۔ چیٹ جی پی ٹی میں 2023 سے پی ڈی ایف اپ لوڈ سپورٹ دستیاب ہے جبکہ گوگل جیمنائی نے یہ فیچر 2024 میں متعارف کرایا تھا۔
اگرچہ واٹس ایپ کا یہ نیا فیچر ابھی ابتدائی بیٹا مرحلے میں ہے، تاہم امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ کامیاب ٹیسٹنگ کے بعد اسے آئندہ چند ماہ میں تمام صارفین کے لیے متعارف کرادیا جائے گا۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اے آئی فیچرز کے بڑھتے ہوئے مقابلے کے تناظر میں واٹس ایپ کا یہ قدم صارفین کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔