بھارت کی شمال مشرقی ریاست Assam میں بھارتی فضائیہ کا ایک لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے جس کی تصدیق Indian Air Force نے بھی کر دی ہے۔ واقعے کے بعد جائے حادثہ پر سرچ اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
بھارتی فضائیہ کے مطابق روسی ساختہ Sukhoi Su-30MKI طیارہ معمول کے تربیتی مشن پر تھا جب یہ آسام کے ضلع کربی کے قریب گر کر تباہ ہوگیا۔ حکام کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے جبکہ عملے کی تلاش کے لیے فوری طور پر ریسکیو ٹیمیں روانہ کی گئی ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ لڑاکا طیارہ آسام کے شہر Jorhat کے ایئر بیس سے پرواز کر کے تربیتی مشن پر روانہ ہوا تھا۔ پرواز کے کچھ ہی دیر بعد شام تقریباً 7 بج کر 42 منٹ پر طیارے کا ریڈار سے رابطہ منقطع ہوگیا جس کے بعد اسے لاپتہ قرار دے دیا گیا۔ بعد ازاں اطلاع ملی کہ طیارہ کربی کے پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا ہے۔
سخوئی Su-30MKI روسی ساختہ جدید لڑاکا طیارہ ہے جسے بھارتی فضائیہ نے 2000 کی دہائی کے آغاز میں اپنے فضائی بیڑے میں شامل کیا تھا۔ یہ طیارے بھارت کی فضائی طاقت کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں اور انہیں فضائی برتری اور اسٹرائیک مشنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
دفاعی رپورٹس کے مطابق گزشتہ تقریباً 30 برسوں کے دوران بھارتی فضائیہ کو 550 سے زائد فضائی حادثات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان حادثات کے نتیجے میں 150 سے زیادہ پائلٹس اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جس پر وقتاً فوقتاً بھارت کے دفاعی نظام اور تربیتی معیار پر سوالات بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حادثات کی بڑی وجوہات میں ناقص تربیت، انسانی غلطیاں، تکنیکی دیکھ بھال میں کمزوریاں اور پرانے طیاروں کا استعمال شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق بھارت کے فضائی بیڑے میں موجود کئی طیارے طویل عرصے سے استعمال میں ہیں جس کی وجہ سے حادثات کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
حکام کے مطابق حالیہ حادثے کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی اصل وجوہات سامنے آسکیں گی، جبکہ ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔