اسلام آباد — وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات سے ہوگا۔
قیمتوں میں اضافے کا اعلان ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں نائب وزیراعظم Ishaq Dar، وزیر خزانہ Muhammad Aurangzeb اور وزیر پیٹرولیم Ali Pervaiz Malik نے کیا۔
خطے کی صورتحال اور عالمی قیمتوں میں اضافہ
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور وزیراعظم کی سربراہی میں اس حوالے سے اہم اجلاس بھی منعقد ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کے لیے یہ ایک مشکل فیصلہ تھا کیونکہ عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے سے بچنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔ اسحاق ڈار کے مطابق حکومت نے دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطے کیے ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ سفارتی سطح پر دیگر ممالک کے ساتھ مل کر صورتحال کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرے، جبکہ وزیراعظم اور عسکری قیادت بھی مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں۔
پیٹرولیم ذخائر اور حکمت عملی
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ موجودہ حالات غیر معمولی ہیں اور پڑوسی خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال نے پورے خطے کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے پیشگی اقدامات کرتے ہوئے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کی تاکہ سپلائی میں خلل نہ آئے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے اضافے کا فیصلہ مجبوری کے تحت کیا گیا ہے۔ وزیر پیٹرولیم کے مطابق جیسے ہی عالمی حالات بہتر ہوں گے حکومت اسی رفتار سے قیمتوں میں کمی کرنے کی کوشش کرے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے اب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عالمی منڈی میں آنے والی تبدیلیوں کے مطابق فوری فیصلے کیے جا سکیں۔
نئی قیمتیں
حکومتی اعلان کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 321 روپے 17 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس بڑے اضافے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، جس کے باعث مہنگائی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔