اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی کیفیت بڑھنے لگی ہے جس کے منفی اثرات پاکستان کی معیشت اور سرمایہ بازار پر بھی نمایاں طور پر ظاہر ہو رہے ہیں۔ کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں شدید مندی دیکھنے میں آئی جس کے باعث سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
پیر کے روز کاروبار کے آغاز پر ہی مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تیزی سے کمی ریکارڈ کی گئی۔ ایک موقع پر 100 انڈیکس 9780 پوائنٹس کی نمایاں کمی کے بعد 147715 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا۔
مارکیٹ میں مسلسل فروخت کے دباؤ کے باعث کے ایس سی 30 انڈیکس بھی شدید متاثر ہوا اور یہ 6.39 فیصد تک گر گیا۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسٹاک ایکسچینج انتظامیہ نے مارکیٹ میں سرکٹ بریکر نافذ کرتے ہوئے تقریباً 45 منٹ کے لیے کاروبار معطل کر دیا۔
سرکٹ بریک کے بعد جب کاروبار بحال ہوا تو منفی رجحان برقرار رہا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت کا دباؤ جاری رہا۔ نتیجتاً کے ایس ای 100 انڈیکس مزید 13050 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 144445 پوائنٹس تک گر گیا۔
دوسری جانب گزشتہ کاروباری ہفتے کے دوران بھی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار رہی تھی۔ ہفتہ وار بنیادوں پر 100 انڈیکس میں 10566 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد انڈیکس 157496 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران مارکیٹ 10217 پوائنٹس کے بینڈ میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ اس دوران سرمایہ کاروں کے درمیان 3 ارب 28 کروڑ شیئرز کے سودے طے پائے جن کی مجموعی مالیت 181 ارب روپے رہی۔
شدید مندی کے باعث سرمایہ کاروں کی دولت میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ مارکیٹ کی مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 1231 ارب روپے کم ہو کر 17698 ارب روپے رہ گئی۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں، کرنسی مارکیٹس اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے، جس کے اثرات پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی مالیاتی منڈیوں پر فوری طور پر ظاہر ہو رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں اسٹاک مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل رہے ہیں۔