ڈھاکا: بنگلادیش کی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں اور ممکنہ توانائی بحران کے پیش نظر ملک بھر کی تمام سرکاری اور نجی یونیورسٹیاں عید الفطر تک بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق بنگلادیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں عید کی تعطیلات قبل از وقت شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت آج سے تمام جامعات میں تدریسی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں جاری کشیدگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس سے توانائی کے شعبے پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر بجلی اور ایندھن کی بچت کے لیے تعلیمی اداروں کی قبل از وقت تعطیلات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بنگلادیشی حکام کے مطابق یونیورسٹی کیمپسز میں بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات کی موجودگی کے باعث بجلی کی کھپت نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔ کلاس رومز، لیبارٹریز، انتظامی دفاتر، طلبہ ہاسٹلز اور ائیر کنڈیشننگ سسٹمز کے باعث جامعات توانائی کے بڑے صارفین میں شمار ہوتی ہیں، اس لیے تعطیلات کے ذریعے بجلی کے استعمال میں نمایاں کمی لائی جا سکے گی۔
حکام کا مزید کہنا تھا کہ یونیورسٹیوں کی بندش سے ٹریفک کے دباؤ میں بھی کمی آئے گی، جس کے نتیجے میں ایندھن کے استعمال میں کمی ہوگی اور توانائی کے مجموعی بحران سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ بنگلادیش میں رمضان المبارک کے دوران سرکاری و نجی اسکول پہلے ہی بند ہیں، جبکہ اب یونیورسٹیوں کو بھی عید الفطر تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور توانائی کی فراہمی کو مستحکم رکھنے کے لیے مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔