شہباز شریف نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور جلد پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہوگا۔ وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کیلئے مسلسل سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ چاہتا ہے کہ تمام تنازعات بات چیت کے ذریعے حل ہوں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، مذاکرات اور باہمی تعاون کا حامی رہا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطے مثبت نتائج کی طرف بڑھیں گے اور پاکستان اس عمل میں تعمیری کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی امن کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ امریکی صدر نے خطے کی صورتحال کے تناظر میں اسلامی ممالک کے رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ وزیراعظم کے مطابق عالمی قیادت کو جنگ اور کشیدگی کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
اپنے بیان میں وزیراعظم نے عاصم منیر کی کوششوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ گفتگو میں پاکستان کی مؤثر نمائندگی کی اور خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو واضح انداز میں پیش کیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بیشتر معاملات طے پا چکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کا اعلان جلد متوقع ہے۔ ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی سطح پر یہ قیاس آرائیاں بھی تیز ہوگئی ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کیلئے اہم سفارتی پیش رفت سامنے آسکتی ہے۔
سیاسی و سفارتی حلقوں کے مطابق اگر ایران اور امریکا مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں منعقد ہوتا ہے تو یہ پاکستان کیلئے ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت اور فعال کردار مزید مضبوط ہوگا۔