لاہور: اسپین سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کے مبینہ اغوا اور تاوان کیس پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنز میں تفصیلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے پولیس کارروائی، ملزمان کی گرفتاری اور کیس کی تفتیش سے متعلق اہم حقائق سامنے رکھے، تاہم پریس کانفرنس اس وقت بدمزگی کا شکار ہو گئی جب صحافیوں نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے گھر ایس ایچ او بھیجے جانے کے معاملے پر سخت سوالات اٹھائے۔
ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق واقعہ کی رات تقریباً بارہ بجے اطلاع موصول ہوئی کہ اسپین سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی بیٹی کو پاکستان میں مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا ہے۔ کارلوس نامی شخص نے پولیس کو بتایا کہ اغوا برائے تاوان کی کال موصول ہوئی ہے جبکہ اس نے اسپین پولیس کو بھی فوری اطلاع دے دی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں غیر ملکی خواتین 26 جون کو پاکستان پہنچیں جبکہ یکم جولائی کو سیف سٹی اتھارٹی کو 15 پر کال موصول ہوئی، جس کے بعد فوری طور پر متعلقہ فون نمبرز، گاڑی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ گاڑی کی ٹریولنگ ہسٹری، سیف سٹی کیمروں اور مختلف مقامات کی فوٹیجز کا جائزہ لیا گیا جبکہ لاہور کے شاہدرہ، ڈیفنس، سرگودھا سمیت مختلف علاقوں میں چھاپے مارے گئے۔
ڈی آئی جی کے مطابق ملزم رضا دونوں خواتین کو گاڑی میں ایئرپورٹ لے جا رہا تھا کہ بھٹہ چوک کے قریب خواتین نے مزاحمت کی اور ملزم سے ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔ اسی دوران گاڑی حادثے کا شکار ہوئی، جس کے بعد دونوں خواتین گاڑی سے نکل کر قریب واقع فلٹر ہاؤس میں داخل ہو گئیں، جہاں سے پولیس نے انہیں بحفاظت ریسکیو کر لیا۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد اسپین کے سفارتی حکام سے رابطہ کیا گیا اور بعد ازاں نیدرلینڈز کے سفارت خانے کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔ خواتین پولیس افسران نے دونوں غیر ملکی خواتین کو میڈیکل معائنے پر آمادہ کیا، تاہم چونکہ اس کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کے احکامات ضروری تھے اور دونوں خواتین کی اگلی صبح پرواز بھی تھی، اس لیے رات گئے ایک ایس ایچ او کو مجسٹریٹ سے احکامات لینے کے لیے ان کی رہائش گاہ بھیجا گیا۔
اس موقع پر ڈی آئی جی فیصل کامران نے واضح کیا کہ پولیس نے کسی جج کے گھر ریڈ نہیں کیا۔ ان کے بقول، “ایس ایچ او صرف گھنٹی بجانے گیا تھا۔ کافی دیر تک جواب نہ ملنے پر گن مین نے دروازے کا ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھل گیا، اسی دوران جج صاحب سامنے آ گئے۔ اگر اس سے کسی کو تکلیف پہنچی تو میں پہلے بھی معذرت خواہ تھا اور آج بھی معذرت خواہ ہوں۔”
انہوں نے کہا کہ پولیس کسی بھی صورت کسی جج کے گھر پر چھاپے کا تصور نہیں کر سکتی اور اس معاملے کو غلط رنگ دیا گیا۔
ڈی آئی جی نے مزید بتایا کہ تفتیش کے دوران “بوس” کے نام سے سامنے آنے والے شخص کی اصل شناخت وحید کے نام سے ہوئی، جس کے خلاف پہلے ہی دس مقدمات درج ہیں اور وہ جرائم پیشہ ریکارڈ رکھتا ہے۔ پولیس نے اسے گرفتار کر لیا جبکہ متاثرہ خاتون کو تصاویر دکھائی گئیں تو اس نے وحید کو ہی “بوس” کے طور پر شناخت کر لیا۔
انہوں نے کہا کہ کیس میں شامل سیاسی شخصیت کا نام پہلے ہی سامنے لایا جا چکا ہے اور پولیس نے کسی بھی فرد کو بچانے یا چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ ان کے مطابق دفعہ 164 کے بیان سے متعلق معلومات کے لیک ہونے کی ذمہ داری عدالت پر عائد ہوتی ہے، پولیس پر نہیں۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ ملزمان کو عدالت میں جسمانی ریمانڈ کے لیے ہتھکڑیوں میں پیش کیا گیا جبکہ پولیس نے متاثرہ خواتین کا موبائل فون، واردات میں استعمال ہونے والی گاڑیاں، کریڈٹ کارڈز اور ہینڈ بیگز بھی برآمد کر لیے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کی جانب سے جوڈیشل مجسٹریٹ کے گھر پولیس اہلکار بھیجنے، قانونی طریقہ کار اور دیگر نکات پر سخت سوالات کیے گئے، جس کے باعث ماحول کچھ دیر کے لیے کشیدہ ہو گیا اور پریس کانفرنس بدمزگی کا شکار رہی، تاہم ڈی آئی جی فیصل کامران نے بار بار اس معاملے پر معذرت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے قانون کے دائرے میں رہ کر کارروائی کی اور کسی ادارے کی توہین کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔