کراچی: کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی لاش ملنے کے بعد جائے وقوعہ پر پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارروائی سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق لاش ملنے کے بعد جائے وقوعہ کو محفوظ بنانے، شواہد اکٹھے کرنے اور کرائم سین یونٹ کی بروقت رسائی کے حوالے سے کئی سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق 29 جولائی کو دوپہر 12 بج کر 36 منٹ پر میر رضا کی لاش ملنے کی اطلاع موصول ہوئی، تاہم لاش تقریباً ایک گھنٹے سے زائد وقت تک جائے وقوعہ پر موجود رہی اور اسے دوپہر 1 بج کر 45 منٹ تک وہاں دیکھا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دوپہر 2 بجے سے قبل ریسکیو اہلکار لاش کو جناح اسپتال منتقل کر گئے، تاہم واقعے کے روز کرائم سین یونٹ کی ٹیم جائے وقوعہ پر نہیں پہنچ سکی۔
کرائم سین یونٹ کو اطلاع کیسے ملی؟
تفتیشی ذرائع کے مطابق کرائم سین یونٹ کو واقعے کی اطلاع 3 بج کر 11 منٹ پر سوشل میڈیا کے ذریعے ملی۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کرائم سین یونٹ کے اہلکاروں کو واقعے کے روز جائے وقوعہ پر آنے سے منع کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق کرائم سین یونٹ کی ٹیم واقعے کے اگلے روز جائے وقوعہ پر پہنچی، جبکہ بعد ازاں ٹیم نے مختلف شواہد کا جائزہ لینے کے لیے جائے وقوعہ کا متعدد مرتبہ دورہ کیا۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ کرائم سین یونٹ اب تک 5 مرتبہ جائے وقوعہ کا دورہ کرچکا ہے اور دستیاب شواہد کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تلاش ڈیوائس کے اہلکار بھی موقع پر نہ پہنچ سکے
ذرائع کے مطابق میر رضا کی لاش ملنے کے تقریباً 15 منٹ بعد تلاش ڈیوائس کے اہلکاروں کو بھی اطلاع دی گئی، تاہم وہ بھی جائے وقوعہ پر نہیں پہنچ سکے۔
تفتیشی حکام کے مطابق واقعے کے ابتدائی مرحلے میں متعلقہ ٹیموں کی بروقت موقع پر عدم موجودگی کے باعث شواہد کے تحفظ کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
پولیس کو ڈکیتی کی اطلاع بھی موصول ہوئی تھی
تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا کی لاش ملنے سے قبل پولیس کو گلستانِ جوہر میں ڈکیتی کی ایک واردات کی اطلاع بھی موصول ہوئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کو لاش ملنے والے مقام پر جانے کے بجائے گلستانِ جوہر بلاک 7 میں ڈکیتی کے مقام پر موجود رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق علاقائی پولیس کے بروقت جائے وقوعہ پر نہ پہنچنے کی وجہ سے بھی بعض ممکنہ شواہد ضائع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
شواہد کے تحفظ پر اہم سوالات
میر رضا کیس کی تفتیش میں اب مرکزی توجہ اس بات پر ہے کہ لاش ملنے کے فوری بعد جائے وقوعہ کو کس طرح محفوظ کیا گیا، متعلقہ اداروں کو کب اور کس نے اطلاع دی اور کرائم سین یونٹ کو بروقت موقع پر پہنچنے سے کیوں روکا گیا۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق واقعے کے ابتدائی مرحلے میں مختلف اداروں کے موقع پر نہ پہنچنے اور پولیس کی کارروائی کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
میر رضا کیس میں تفتیش آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ جائے وقوعہ سے متعلق شواہد، پولیس کی ابتدائی کارروائی اور مختلف اداروں کو دی جانے والی ہدایات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ واقعے کے اصل حقائق تک پہنچا جاسکے۔
واضح رہے کہ یہ تفصیلات تفتیشی ذرائع کے ابتدائی دعووں پر مبنی ہیں، جبکہ حتمی حقائق کا تعین تحقیقات اور متعلقہ حکام کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہوگا۔