کوئٹہ: آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کرتے ہوئے 9 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ دہشتگردوں کے ٹھکانے بھی تباہ کیے گئے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں زیارت، ہرنائی اور سوراب کے علاقوں میں کی گئیں۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر زیارت اور ہرنائی کے درمیان واقع پہاڑی سلسلے میں سکیورٹی فورسز نے بڑا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے ایک ٹھکانے کا سراغ لگایا گیا اور اسے چاروں جانب سے گھیرے میں لے لیا گیا۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ٹھکانے میں موجود 8 دہشتگرد ہلاک ہوگئے، جبکہ ان کے متعدد ٹھکانے بھی تباہ کردیئے گئے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز نے آپریشن کے دوران علاقے میں موجود دیگر مشتبہ مقامات اور راستوں کی بھی تلاشی لی تاکہ دہشتگردوں کے فرار کے امکانات کو ختم کیا جاسکے۔
دوسری جانب ضلع سوراب میں بھی سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا۔ ذرائع کے مطابق دشت کٹائی اور حاجیکہ کے درمیان دہشتگردوں کی مشکوک نقل و حرکت کی اطلاع ملنے پر فورسز نے فوری کارروائی کی۔
سکیورٹی فورسز نے حاجیکہ گاؤں میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس کے دوران ایک دہشتگرد ہلاک ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق کارروائیوں کے دوران ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے بڑی تعداد میں ایمونیشن، میگزین، دستی بم، واکی ٹاکی، موٹرسائیکل اور دیگر جنگی و مواصلاتی سامان بھی برآمد کیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق برآمد ہونے والے سامان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشتگرد علاقے میں کارروائیوں اور نقل و حرکت کے لیے منظم انداز میں موجود تھے۔ فورسز نے کارروائی کے بعد متاثرہ علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی جاری رکھا۔
سکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے، دہشتگرد عناصر کے نیٹ ورک کو توڑنے اور دیرپا امن کے قیام تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھی جائیں گی۔
حکام کے مطابق دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں انٹیلی جنس معلومات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور مقامی سطح پر مشتبہ سرگرمیوں کی نگرانی مزید مؤثر بنائی جا رہی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں امن و امان کو متاثر کرنے کی کوشش کرنے والے دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔