ریاض: سعودی عرب میں غیر قانونی مقیم افراد اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جاری مہم کے دوران سکیورٹی اداروں نے ایک ہفتے میں ہزاروں افراد کو گرفتار کرتے ہوئے بڑی تعداد میں ملک بدر کر دیا۔
سعودی وزارت داخلہ کے مطابق 4 جون سے 10 جون تک ملک بھر میں سکیورٹی فورسز اور متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے مشترکہ تفتیشی اور نگرانی کی کارروائیاں کی گئیں، جن کے دوران مجموعی طور پر 10 ہزار 725 افراد کو مختلف قوانین کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گرفتار افراد میں 5 ہزار 899 ایسے افراد شامل تھے جو اقامہ (ریزیڈنسی) قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے، جبکہ 3 ہزار 84 افراد بارڈر سکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث تھے۔ اسی طرح ایک ہزار 742 افراد کو لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔
حکام کے مطابق کارروائیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 7 ہزار 989 غیر قانونی مقیم افراد کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیج دیا گیا، جبکہ مزید 14 ہزار 268 افراد کو سفری دستاویزات اور دیگر قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے متعلقہ سفارتی مشنز کے حوالے کیا گیا ہے تاکہ ان کی واپسی کے عمل کو مکمل کیا جا سکے۔
سعودی میڈیا رپورٹس کے مطابق مملکت میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک ہزار 418 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔ گرفتار شدگان میں 43 فیصد یمن، 55 فیصد ایتھوپیا جبکہ 2 فیصد دیگر ممالک کے شہری شامل تھے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ غیر قانونی طریقے سے سعودی عرب چھوڑنے کی کوشش کرنے والے 34 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ مملکت میں امیگریشن، اقامہ اور لیبر قوانین پر سختی سے عمل درآمد جاری رکھا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔
وزارت داخلہ نے شہریوں اور کاروباری اداروں کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ غیر قانونی مقیم افراد کو ملازمت، رہائش یا کسی قسم کی سہولت فراہم کرنے سے گریز کریں، کیونکہ ایسے اقدامات قانون کے تحت قابلِ سزا جرم ہیں اور ان پر سخت جرمانے اور قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔