چکوال: ضلع چکوال میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی فائرنگ کے نتیجے میں پاکستانی نژاد آسٹریلوی بچی کی ہلاکت اور اس کے والد و بھائی کے زخمی ہونے کے افسوسناک واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ابتدائی انکوائری کے مطابق واقعے میں ملوث سی سی ڈی اہلکار کی جانب سے قواعد و ضوابط (ایس او پیز) کی سنگین خلاف ورزیاں کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ سی سی ڈی اہلکار شجاعت نے مبینہ طور پر کسی قسم کی پیشگی وارننگ یا قانونی تقاضے پورے کیے بغیر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک معصوم بچی جان کی بازی ہار گئی جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔
تحقیقات کے دوران یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ قتل کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود ملزم اہلکار کو جسمانی ریمانڈ کے بجائے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل کیوں بھیجا گیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایسے مقدمات میں عموماً تفتیش مکمل کرنے اور شواہد اکٹھے کرنے کے لیے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جاتا ہے۔
چکوال کی مقامی عدالت میں پیشی کے دوران تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے سرکاری اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے اور اس کا بیان بھی قلم بند کیا جا چکا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ وقوعہ کے روز ملزم کی تھانے میں حاضری اور ڈیوٹی ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔
تفتیشی افسر کے مطابق جس گاڑی پر فائرنگ کی گئی، اس کا معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کے خول فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تمام ضروری ریکوری مکمل ہو چکی ہے اور اس مرحلے پر مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں رہی، جس کے بعد عدالت نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔
دوسری جانب واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے زخمی ہونے والے عدیل احمد کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا ہے۔ عدیل احمد اور ان کا بیٹا عفان اس وقت مقامی اسپتال میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت بہتر بتائی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی آئندہ دو روز میں اپنی حتمی رپورٹ سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چھٹہ کو پیش کرے گی۔ واقعے کے بعد ملوث اہلکار کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ اس کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی درج کیا جا چکا ہے۔
پولیس کو دیے گئے بیان میں عدیل احمد نے بتایا کہ وہ آسٹریلیا سے پاکستان آئے ہوئے تھے اور اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ ڈھڈیال سے چکوال میں واقع سسرال جا رہے تھے۔ ان کے مطابق نوگزی دربار کے قریب گاڑی روکنے کے دوران دو مسلح افراد ان کے قریب آئے اور ان کی اہلیہ پر اسلحہ تان لیا۔
عدیل احمد کے مطابق ان کی اہلیہ نے مزاحمت کے بجائے ڈاکوؤں سے کہا کہ جو کچھ لینا ہے لے لیں لیکن خاندان کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے اپنا زیور بھی مسلح افراد کے حوالے کر دیا، تاہم اسی دوران اچانک فائرنگ کی آواز سنائی دی جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔
بیان کے مطابق فائرنگ شروع ہوتے ہی مسلح افراد گاڑی کے اطراف میں پوزیشن لے کر چھپ گئے اور جوابی فائرنگ بھی کی۔ عدیل احمد نے بتایا کہ انہوں نے اہل خانہ کو بچانے کے لیے گاڑی وہاں سے نکالنے کی کوشش کی لیکن مختلف سمتوں سے ہونے والی فائرنگ کے باعث وہ خود اور ان کا بیٹا عفان زخمی ہو گئے۔
فائرنگ کے دوران ان کی 9 سالہ بیٹی ہانیہ کو بھی گولی لگی اور وہ شدید زخمی ہو گئی۔ اہل خانہ کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود ہانیہ جانبر نہ ہو سکی اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔
پولیس نے قانونی کارروائی مکمل کرنے کے لیے بچی کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دی ہے۔ واقعے نے نہ صرف مقامی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں اور ان کے طریقہ کار پر بھی کئی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
عوامی اور قانونی حلقے اس واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔