لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمانوں اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو اپنے الفاظ کے چناؤ میں احتیاط برتنی چاہیے اور بڑوں کا احترام کرنا سیکھنا چاہیے۔
اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ “اپنے الفاظ کا چناؤ درست کریں اور بڑوں کی عزت کرنا سیکھیں۔” انہوں نے کہا کہ سیاست میں اختلاف رائے اپنی جگہ، تاہم ذاتی تضحیک اور غیر مناسب زبان کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ “بلیک میلنگ کے مینڈیٹ کی پیداوار اب ہمیں طعنے دے رہی ہے، اللہ کی شان ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ بعض رہنما اپنے والد کی عمر کے افراد کے بارے میں نامناسب انداز اختیار کرتے ہیں اور رائیونڈ سے متعلق طنزیہ جملے استعمال کرتے ہیں، جو سیاسی شائستگی کے خلاف ہے۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ اگر کسی بڑے رہنما کی تضحیک کی جائے تو اسے بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ “آپ کا لیڈر کسی والد کی عمر کے شخص کا مذاق اڑائے تو کیا وہ تضحیک نہیں؟”
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے رائیونڈ کو باقاعدہ مذاق کا موضوع بنا لیا ہے اور سیاسی اختلاف کو ذاتی حملوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مخالفین اسی انداز میں زبان درازی کریں گے تو انہیں جواب بھی ملے گا۔
انہوں نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ “بلاول صاحب آسمان سے اترے ہوئے اوتار نہیں ہیں۔” ان کے مطابق بلاول بھٹو اپنی تقاریر میں پنجاب کے مختلف شہروں کا ذکر کرتے ہوئے غلط اور بے بنیاد پروپیگنڈا کرتے ہیں، جو حقائق کے منافی ہے۔
عظمیٰ بخاری نے سوال کیا کہ کیا بلاول بھٹو کا یہ طرزِ سیاست اور اندازِ گفتگو سنجیدہ اور مناسب سمجھا جا سکتا ہے، یا یہ خود ان کے لیے باعثِ تنقید ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو ذاتی حملوں کے بجائے عوامی مسائل، کارکردگی اور پالیسیوں پر بات کرنی چاہیے تاکہ جمہوری روایات کو فروغ مل سکے۔