لندن/سنگاپور: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، ایران سے متعلق خدشات اور یوکرین جنگ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں کئی اقسام کے فزیکل کروڈ آئل کارگوز کی قیمتیں تقریباً دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور افریقا سے برآمد ہونے والے خام تیل کے کارگوز کی قیمتوں میں ہفتے بھر کے دوران مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بعض معاہدوں میں قیمت 110 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق خریدار مستقبل میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشے کے پیش نظر فوری ترسیل کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہیں۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے ڈیٹڈ برینٹ کی قیمت بھی تیزی سے اوپر گئی اور جمعرات کو 105.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو مئی کے آخر کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ یہ کئی ہفتوں بعد پہلا موقع ہے جب برینٹ کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل کی حد عبور کر گئی۔
توانائی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کی توجہ ایک مرتبہ پھر سپلائی کے خطرات پر مرکوز ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی یا اہم پیداواری علاقوں سے رسد متاثر ہوئی تو قیمتوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں۔
ادھر قازقستان نے بھی اعلان کیا ہے کہ بحیرہ اسود میں واقع سی پی سی بلینڈ خام تیل کے اہم برآمدی ٹرمینل کو مبینہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد عارضی طور پر بند کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ملک کو تیل کی پیداوار میں نمایاں کمی کرنا پڑی۔
ذرائع کے مطابق قازقستان کی خام تیل کی پیداوار کم ہو کر تقریباً 4 لاکھ 60 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی ہے، جس سے عالمی منڈی میں رسد کے حوالے سے خدشات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران سے متعلق کشیدگی، یوکرین جنگ اور دیگر جغرافیائی تنازعات برقرار رہے تو عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے اثرات صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مہنگائی، نقل و حمل کے اخراجات اور عالمی اقتصادی سرگرمیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔