وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت توہین عدالت کے معاملے پر حکومت کی جانب سے جواب وزیر اطلاعات یا وزیر قانون نہیں بلکہ وزیر داخلہ دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے اسپتال سے متعلق معاملے میں سیکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال کے باعث اسپتال تبدیل کیا گیا، جس کی ذمہ داری وزارت داخلہ سے متعلق ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ توہین عدالت کا معاملہ اس بنیاد پر سامنے آیا کہ عمران خان کا چیک اپ ایک اسپتال کے بجائے دوسرے اسپتال میں کیوں ہوا۔ ان کے مطابق اسپتال کی تبدیلی امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر کی گئی تھی، اس لیے وزارت داخلہ سپریم کورٹ کے سامنے اس حوالے سے شواہد پیش کرے گی۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ عدالت نے واضح طور پر ہدایات دی تھیں کہ ایک مخصوص کام نہ کیا جائے، تاہم ان کے بقول پی ٹی آئی نے وہی اقدام کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عدالت کے سامنے اپنا مؤقف اور متعلقہ ثبوت پیش کرے گی۔
پی ٹی آئی مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، رانا ثنا اللہ
پی ٹی آئی کے سیاسی رویے پر بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مذاکرات اور دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھنا تحریک انصاف کے سیاسی مزاج کا حصہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے شروع ہوتی ہے اور انہی پر ختم ہوتی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن میں پی ٹی آئی کے علاوہ دیگر جماعتیں حکومت کے ساتھ بیٹھنے اور بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے تمام فریقین کو بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
جماعت اسلامی کے احتجاج پر بھی رانا ثنا اللہ کا ردعمل
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف جماعت اسلامی کے احتجاج کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جماعت اسلامی کو صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے احتجاج ختم کر دینا چاہیے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ احتجاج میں عوام کی قابلِ ذکر شرکت نہیں ہوئی اور عوام نے جماعت اسلامی کے احتجاج کو مسترد کردیا ہے۔
انہوں نے جماعت اسلامی کو مشورہ دیا کہ اگر احتجاج میں عوام شامل نہیں تو اسے عوامی احتجاج قرار دینا مناسب نہیں۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وہ خالد باٹھ اور ان کے ساتھ آنے والے کسانوں کو بھی جانتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اس بات کا اطمینان ہے کہ مسلم لیگ ن کو عوامی مسائل کا ادراک ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت کی سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں تو مہنگائی سمیت دیگر مشکلات کے حل کے امکانات پیدا ہوں گے۔
آزاد کشمیر میں حکومت سازی پر بھی بات
اس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے حوالے سے کہا کہ حکومت بنانے میں کوئی دشواری نہیں۔ ان کے مطابق خصوصی نشستوں پر انتخاب مکمل ہوگیا ہے اور مسلم لیگ ن کے 6 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، جس کے بعد آزاد کشمیر اسمبلی میں ان کے ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی مظاہرین سے متعلق جو فیصلہ کرے گی، وہ آزاد ہے۔ رانا ثنا اللہ نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ فریقین اپنے مسائل کو باہمی طور پر بہتر انداز میں حل کرلیں گے۔
رانا ثنا اللہ نے ایک مرتبہ پھر پی ٹی آئی کے حوالے سے کہا کہ اس جماعت کی موجودگی میں کوئی الائنس نہیں بن سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے سیاسی مزاج میں دوسری جماعتوں کے ساتھ تعاون شامل نہیں۔
توہین عدالت کی درخواست پی ٹی آئی نے نہیں دی، سلمان اکرم راجا
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا نے رانا ثنا اللہ کے مؤقف کے جواب میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں دائر کی گئی توہین عدالت کی درخواست تحریک انصاف کی جانب سے نہیں بلکہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔
کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کے وکیل عزیر بھنڈاری کے مطابق یہ ان کی موکلہ کا اختیار ہے کہ توہین عدالت کی درخواست میں کس شخص کو فریق بنایا جائے اور کس کو نہ بنایا جائے۔
ان کے مطابق محسن نقوی کے خلاف توہین عدالت کے شواہد موجود نہ ہونے کے باعث انہیں درخواست میں فریق نہیں بنایا گیا۔ سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ کو درخواست میں فریق بنانا یا نہ بنانا بھی درخواست گزار کا قانونی اختیار ہے۔
عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں پر سوالات
سلمان اکرم راجا نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر فیصل سلطان نے ایسی کوئی بات نہیں کی جو عدالتی حکم کے منافی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی قیدی کے حالات بانی پی ٹی آئی جیسے ہوں تو نجی اسپتال منتقل ہونا اس قیدی کا بھی حق ہونا چاہیے۔
پی ٹی آئی رہنما نے مزید دعویٰ کیا کہ عمران خان کا 2 دسمبر کے بعد خاندان سے رابطہ منقطع کیا گیا اور ان کی صحت سے متعلق خدشات موجود ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی دوسرے قیدی کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے کہ اسے 10 ماہ تک خاندان سے ملاقات نہ کرائی گئی ہو۔
یوں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان عمران خان کی صحت، اسپتال منتقلی، عدالتی احکامات اور ملاقاتوں کے معاملے پر اختلافِ رائے ایک مرتبہ پھر سامنے آگیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اسپتال کی تبدیلی امن و امان اور سیکیورٹی کی صورتحال کے باعث ہوئی، جبکہ پی ٹی آئی اس معاملے کو عمران خان کے بنیادی حقوق اور عدالتی احکامات کی پاسداری سے جوڑ رہی ہے۔
سپریم کورٹ میں توہین عدالت کا جواب وزیر داخلہ دیں گے، رانا ثنا اللہ
1