نیویارک: امریکی ایکسپورٹ-امپورٹ بینک (EXIM Bank) نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان، مصر اور یورپ میں معدنیات اور توانائی کے اہم منصوبوں میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
سرمایہ کاری کا مقصد
روئٹرز کے مطابق یہ سرمایہ کاری اہم معدنیات، جوہری توانائی اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی سپلائی چینز کو محفوظ اور مستحکم بنانے کے لیے کی جا رہی ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق بینک اس سرمایہ کاری کے ذریعے مغرب کے اہم خام مواد پر انحصار کو کم کرنے اور سپلائی چینز کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔
ابتدائی منصوبے اور مالی معاونت
• سرمایہ کاری کی پہلی قسط میں پاکستان، مصر اور یورپ کے منصوبے شامل ہیں۔
• پاکستان میں ریکو ڈِک کان کے لیے 1.25 ارب ڈالر کا قرض دیا جائے گا، جسے ‘بیرک مائننگ’ تیار کر رہا ہے۔
• مصر کے لیے ہارٹری پارٹنرز کی جانب سے 4 ارب ڈالر مالیت کی قدرتی گیس کے لیے کریڈٹ انشورنس گارنٹی فراہم کی جائے گی۔
پروگرام کی تفصیلات
• امریکی کانگریس نے EXIM Bank کے لیے 135 ارب ڈالر کی منظوری دی تھی، جس میں سے ابتدائی سرمایہ کاری میں 100 ارب ڈالر مختلف منصوبوں میں مختص کیے جائیں گے۔
• بینک کا کہنا ہے کہ مغرب نے اہم خام مواد پر حد سے زیادہ انحصار کر لیا ہے، اور سرمایہ کاری کا مقصد سپلائی چینز کو محفوظ، مستحکم اور فعال بنانا ہے۔
امریکی صدر کا توانائی ایجنڈا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا توانائی کے شعبے میں غلبہ قائم کرنے کا ایجنڈا اس سرمایہ کاری کے پیچھے اہم محرک ہے۔
صدر ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ میں توانائی کی پیداوار بڑھائیں گے اور ماحولیات سے متعلق کئی پابندیوں کو نرم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔